وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بجٹ میں دیے گئے موجودہ اقدامات کے ذریعے محصولات کا ہدف پورا نہ ہوا تو حکومت کو مجبوراﹰ 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے پڑ سکتے ہیں۔
آج ٹی وی کے پروگرام ”اسپاٹ لائٹ“ میں منیزے جہانگیر کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ نئے ٹیکس لگانے کے بجائے پہلے سے اعلان کردہ اقدامات پر مؤثر عملدرآمد پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ نئے اقدامات کے بجائے نفاذ کے قابل بنانے سے متعلق ہے۔ انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران صرف عملدرآمد کے ذریعے 389 ارب روپے کے اضافی محصولات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ اہداف حاصل نہ کر سکے تو پھر سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمیں 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے ہوں گے۔ یہ ایک واضح انتخاب ہے۔
وزیر خزانہ، جو ماضی میں پنشنز کے بوجھ پر متعدد بار بات کر چکے ہیں—جو سالانہ ایک کھرب روپے سے زائد بنتا ہے—نے بتایا کہ وزارت دفاع کے ساتھ فوجی پنشن اصلاحات پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوجی سروس اسٹرکچر سول بیوروکریسی سے مختلف ہے، وہ 30 سے 35 سال میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ اس لیے فوجی پنشن اصلاحات پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام اداروں میں پنشن میں اضافہ کیا ہے، بشمول سول بیوروکریسی۔ ساتھ ہی ہم نے یکم جولائی 2024 سے سول بیوروکریسی سے پنشن اصلاحات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے اضافی مالی وسائل کا اعلان کریں گے۔ یہ وسائل مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں مختص کیے گئے 133 ارب روپے کے علاوہ ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔مزید کہا کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کے لیے مختص فنڈز پاکستان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہیں۔ ہم مطلوبہ ذخیرہ استعداد سے 15 سے 30 فیصد کم ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ وزیر اعظم کی جانب سے نئے اقدامات کا اعلان سنیں گے۔
وزیر خزانہ نے زرعی شعبے پر ٹیکس نہ لگانے سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبوں نے اس حوالے سے قانون سازی مکمل کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی یکم جولائی سے شروع ہو جائے گی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ وفاقی حکومت کو گندم کا اسٹریٹیجک ذخیرہ رکھنا چاہیے تھا، تاہم انہوں نے زرعی منڈی سے حکومتی مداخلت کے خاتمے کے عزم کو دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم بڑی فصلوں جیسے کپاس، گندم، مکئی، گنا اور چاول میں بہتری کی توقع رکھتے ہیں اور زراعت میں بحالی دیکھتے ہیں، انہوں نے اس بات کا دفاع کیا کہ حکومت نے گندم اور چینی کی سپورٹ پرائس اور خریداری سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چاول اور مکئی میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں، اور اب ہمیں چینی اور گندم سے بھی نکلنا ہوگا۔ ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا ہے۔ ہمیں اسٹوریج کی صلاحیت بڑھانی ہے اور الیکٹرانک گوداموں میں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ پنجاب حکومت اس سلسلے میں قیادت کر رہی ہے۔ پوری ویلیو چین کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا۔
اگرچہ مالی سال 25-2024 میں بڑی فصلوں کی پیداوار میں 13.5 فیصد کمی ہوئی ہے، وزیر خزانہ کے مطابق لائیوسٹاک اور پولٹری شعبوں کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔
عالمی قرض دہندگان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے اورنگزیب نے تصدیق کی کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تحت طے شدہ مذاکرات سے ہم آہنگ ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا ہے کہ مالی سال 26-2025 میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر مجوزہ ٹیکس عائد نہیں کیے جائیں گے۔
جائیداد اور تعمیراتی شعبے میں حالیہ ٹیکس تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے خریداروں کے لیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر کے ٹیکس کم کیے ہیں، لیکن بیچنے والوں کے لیے سرمایہ منافع پر ٹیکس بڑھایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جائیداد کی لین دین پر 7 فیصد ایف ای ڈی کا خاتمہ—جو اصل میں خوراک پر عائد تھی نہ کہ تعمیرات پر—خریداروں کے لیے لاگت کو کم کرتا ہے، جبکہ بیچنے والوں پر کیپیٹل گینز ٹیکس بڑھا کر حکومت کو محصولات کے نقصان سے بچایا گیا ہے۔
آخر میں وزیر خزانہ نے توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی کا عندیہ بھی دیا۔حکومت پہلے ہی بجلی کی قیمت میں 7 روپے فی یونٹ کمی کر چکی ہے، اور آئندہ مزید کمی متوقع ہے۔