پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے مطابق بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کے دو اہم اور دیرینہ مطالبات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے: جن میں ریموٹ ورکرز کے لیے ایک واضح اور منصفانہ ٹیکس نظام، اور فارمل آئی ٹی ایکسپورٹرز کے لیے موجودہ ٹیکس نظام کو جاری رکھنے اور توسیع دینے کی ضرورت شامل ہے۔
بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کی یہ بارہا درخواست کہ حکومت 10 سالہ ٹیکس پالیسی فریم ورک متعارف کرائے — جو کمپنیوں کو سرمایہ کاری، ترقی اور عالمی حریفوں سے مقابلے کی سہولت دے — کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اسے قابلِ افسوس غفلت اور خاموش مگر کاری ضرب قرار دیا جو ایک ایسی صنعت پر لگائی گئی ہے جو برآمدی ترقی، نوجوانوں کے روزگار اور ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی امید سمجھی جاتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ایک ایسی صنعت کے لیے جو 6 لاکھ سے زائد نوجوان پاکستانیوں کو روزگار فراہم کرتی ہے یہ بجٹ صرف مایوسی نہیں بلکہ ایک خطرہ ہے ۔
پاشا کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کیلئے کام کرنے والے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے ریموٹ ورکرز، جو اکثر باقاعدہ ملازم جیسے ہی ہوتے ہیں، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
ادھر پاکستان میں قائم کمپنیاں، جو مقامی ٹیلنٹ کو ملازمت دیتی اور تربیت فراہم کرتی ہیں کو ٹیکس، آڈٹ اور حد سے زائد ضوابط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ پالیسی مقامی افراد کو روزگار دینے والی کمپنیوں پر بوجھ ڈالتی ہے جب کہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے بغیر ضابطے کے کام کرنے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ مقامی ٹیلنٹ کو برقرار رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے، برآمدی آمدن ملک کے بجائے بیرونِ ملک منتقل کی جا رہی ہے اور باضابطہ آئی ٹی کمپنیاں شدید مالی نقصان کا شکار ہو رہی ہیں۔
پاشا کے مطابق حکومت کا اقدامات سے گریز کرنا خاص طور پر اس لیے مایوس کن ہے کیونکہ ان کی تجویز کردہ حل نہایت سادہ ہے:ایسے افراد کو ”ریموٹ ورکر“ قرار دینا جو سالانہ 25 لاکھ روپے سے زیادہ آمدنی، تین سے کم غیر ملکی کمپنیوں یا ذرائع سے حاصل کرتے ہیں۔
پاشا کا ماننا ہے کہ اس تجویز سے صرف سب سے زیادہ کمانے والے 5 فیصد افراد متاثر ہوں گے، جب کہ فری لانسرز اور چھوٹے پیمانے پر زرمبادلہ بھیجنے والوں کو نقصان نہیں پہنچے گا۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو برآمد کنندگان کیلئے موجودہ ٹیکس نظام میں توسیع کرنی چاہیے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ڈی ایف ڈی آئی) اقدام کے تحت حاصل کردہ 70 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے خطرے میں پڑ چکے ہیں، کیونکہ ٹیکس پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے “غیر ملکی سرمایہ کار ایسے ملک میں دلچسپی نہیں رکھتے جہاں ہر سال قوانین بدلتے رہیں۔
پاشا نے کہا کہ وفاقی بجٹ دنیا کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ — جو سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والا شعبہ ہے — مکمل طور پر اپنی رفتار کھو سکتا ہے۔
پاشا نے خبردار کیا کہ برآمدات کی نمو رک جائے گی، روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں گے اور حکومت کا 25 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا خواب ہمیشہ کے لیے خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ موجودہ شکل میں پیش کیا گیا بجٹ 2025 ملک کے باقاعدہ ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے وجود کے لیے براہ راست خطرہ ہے کیونکہ یہ ان کمپنیوں کو سزا دیتا ہے جو قانون کی پابندی کرتی ہیں،اس کے ساتھ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور غیر رسمی نظام کو فروغ دیتا ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ یہ اب محض مراعات کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ پاکستان کی چند کامیاب معاشی کہانیوں میں سے ایک کو بچانے کا وقت ہے۔ صورتحال کی سنگینی اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کا آئی ٹی شعبہ: ایک روشن اُمید
یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب i2i کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ ملک کی مجموعی سست روی کا شکار معیشت میں ایک روشن پہلو کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے، جہاں آئی ٹی برآمدات مالی سال 2025 میں تقریباً 3.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اور اس ترقی کی بنیاد نوجوان اور ٹیکنالوجی سے آشنا آبادی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے پہلے دس مہینوں میں آئی ٹی برآمدات 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر مضبوط 21 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپریل 2025 میں ماہانہ آئی ٹی برآمدات 317 ملین ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 2 فیصد اضافہ ہے، اگرچہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ اعداد و شمار 12 ماہ کے اوسط یعنی 314 ملین ڈالر سے زیادہ ہیں اور اکتوبر 2023 سے مسلسل 19ویں ماہ سالانہ بنیاد پر برآمدات میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔