وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں توانائی شعبے کے لیے سبسڈی کی مد میں رقم 13 فیصد کم کر کے 1.036 کھرب روپے مقرر کی ہے، جو گزشتہ مالی سال 25-2024 میں 1.190 کھرب روپے تھی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق، مجموعی سبسڈیز میں بھی 14 فیصد کمی کی گئی ہے، جو مالی سال 25-2024 کے نظرثانی شدہ تخمینے 1.378 کھرب 48 کروڑ 90 لاکھ روپے سے کم ہو کر مالی سال 26-2025 میں 1.186 کھرب 3 کروڑ 60 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

انٹر ڈسکو ٹیرف فرق کی مد میں سبسڈی 25-2024 کے 276 ارب روپے سے کم کر کے 26-2025 میں 249.136 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جو 9.8 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے سبسڈی 25-2024 کے 9.5 ارب روپے سے کم ہو کر 26-2025 میں 4 ارب روپے ہو گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے لیے سبسڈی میں 38 فیصد سے زائد کمی کی گئی ہے، جو 25-2024 کے 65 ارب روپے سے کم ہو کر 26-2025 میں 40 ارب روپے کر دی گئی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے لیے سبسڈی میں 31.5 فیصد کمی کی گئی ہے، جو 25-2024 میں 108 ارب روپے تھی، اور اب 26-2025 میں 74 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ پاکستان انرجی ریزالوِنگ فنڈ (پی ای آر اے) کے تحت 26-2025 کے لیے 48 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے برابر ہیں۔ اس رقم سے سی پیک کے تحت قائم چینی آئی پی پیز کو ہر ماہ 5 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔

کے-الیکٹرک کے لیے سبسڈی میں 28 فیصد سے زائد کمی کی گئی ہے، جو 25-2024 کے 174 ارب روپے سے کم ہو کر 26-2025 میں 125 ارب روپے ہو گئی ہے۔ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 26-2025 میں 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 25-2024 میں 50 کروڑ روپے تھے۔

آئی پی پیز کو 26-2025 میں 95 ارب روپے دیے جائیں گے، جو 25-2024 کے نظرثانی شدہ تخمینے 115 ارب روپے سے کم ہیں۔ یاد رہے کہ 25-2024 کے بجٹ اعلان کے وقت اس مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی تھی۔

مجموعی بجلی سبسڈی کے لیے یکمشت مد میں 26-2025 کے لیے 400 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جو کہ 24-2023 میں اصل مختص رقم 509 ارب روپے اور 25-2024 کے نظرثانی تخمینے 394 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہیں۔ تاہم، بجٹ دستاویزات میں اس مد کا مقصد واضح نہیں کیا گیا۔

پیٹرولیم سبسڈی کے لیے 26-2025 میں 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 24-2023 کے لیے 18.4 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ ان میں سے 1.2 ارب روپے پیپکو کے گارنٹیڈ تھروپٹ میں کمی پوری کرنے کے لیے ہیں، جو کہ 25-2024 میں 2.4 ارب روپے تھے۔ تاہم، ایشیا پیٹرولیم اور ایس این جی پی ایل (آر ایل این جی) کے ذریعے گھریلو صارفین کے لیے کسی سبسڈی کی رقم مختص نہیں کی گئی، جبکہ 25-2024 میں اس مد میں 16 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

پاسکو کے لیے 26-2025 میں گندم کے ذخیرے کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 14 ارب روپے گندم کے ذخیرے اور 6 ارب روپے گندم کی فروخت کے اخراجات کے فرق کے لیے رکھے گئے ہیں۔

وزارت صنعت و پیداوار کے لیے 26-2025 میں 24 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو 25-2024 کے 68 ارب روپے کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ ان میں سے 9 ارب روپے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی و مراعات کے لیے جبکہ 15 ارب روپے یوٹیلٹی اسٹورز کے چینی واجبات کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تاہم وزیراعظم کے یوٹیلٹی اسٹورز پیکج اور رمضان پیکج کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی، حالانکہ 25-2024 میں اس مد میں 55 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

دیگر سبسڈیز کے لیے 26-2025 میں 104.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ 24-2023 کے اصل تخمینے 75.012 ارب روپے اور نظرثانی تخمینے 90.099 ارب روپے سے زائد ہیں۔

دیگر سبسڈیز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

1 . گلگت بلتستان کو گندم فراہمی – 20 ارب روپے2 . یوریا کھاد کی درآمد پر سبسڈی – 15 ارب روپے3 . نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم – 1 ارب روپے4 . کسان پیکج و زرعی مشینری اسکیم کے لیے مارک اپ سبسڈی – 7 ارب روپے5. ایس ایم ای آسان فنانس اسکیم – 1 ارب روپے6. ایس ایم ای فنانسنگ بڑھانے کے لیے سبسڈی – 2 ارب روپے7. اسٹیٹ بینک ریفنانسنگ اسکیم کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے مارک اپ سبسڈی – 30 ارب روپے8. 5 کلومیٹر گیس اسکیم – 5 ارب روپے9. ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیم (ای ایف ایس) اور ایگزم سے متعلق اسکیم – 5 ارب روپے10. کم لاگت ہاؤسنگ کے لیے مارک اپ سبسڈی – 5 ارب روپے11. میٹرو بس سبسڈی – 7.3 ارب روپے

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025