قائداعظم تھرمل پاور اور پنجاب تھرمل پاور کمپنیوں کی بجلی کے نرخوں میں کمی کے بعد صارفین کے بلوں میں کچھ کمی آئے گی، لیکن اس کا اثر معمولی اور نمایاں حد تک محسوس نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں بجلی کے صارفین کے نرخوں میں یقینی کمی ہوگی اور یہ ریلیف دونوں سرکاری پاور کمپنیوں کے منافع سے فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں صوبائی حکومت نیپرا سے ان دونوں پلانٹس کے لیے بجلی کے نرخ کم کرنے کی درخواست کرے گی تاکہ یہ قیمتوں میں کمی مستقل بنیادوں پر نافذ ہو اور نئے نرخوں میں شامل کی جائے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب حکومت نے مارچ 2015 میں کمپنیز آرڈیننس 1984 کے سیکشن 32 کے تحت ایک خاص مقصد کے لیے کمپنی قائم کی تھی جس کا نام قائدِ اعظم تھرمل پاور (پرائیویٹ) لمیٹڈ (کیو اے ٹی پی ایل) رکھا گیا۔ یہ کمپنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پی ) موڈ میں بھکی، شیخوپورہ میں تیز رفتار منصوبے کے تحت 1180 میگاواٹ کی آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹ تعمیر، ملکیت اور آپریٹ کرنے کی ذمہ دار ہے۔

پنجاب تھرمل پاور(پرائیویٹ) لمیٹڈ (پی ٹی پی ایل) ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جو کمپنیز ایکٹ، 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہے۔ یہ کمپنی مکمل طور پر پنجاب حکومت کی ملکیت ہے اور توانائی کے شعبے کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔کمپنی کا اہم مشن ضلع جھنگ کے قریب حویلی بہادر شاہ میں، ٹریمو بیراج کے مقام پر، 1263 میگاواٹ کی آر ایل این جی بیسڈ تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر اور آپریشن ہے۔

یاد رہے کہ صوبائی کابینہ نے اپنے اجلاس میں ان دونوں پاور پلانٹس کے بجلی کے نرخ 30 سے 40 فیصد تک کم کرنے کی منظوری دی، تاکہ عوام کو بجلی کے بلوں میں خاطرخواہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کی حالیہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں آزاد پاور پلانٹس (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدے دوبارہ مذاکرات کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

دونوں کمپنیوں نے اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی منافع کی شرح کو کم کیا اور غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی نمایاں کمی کی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025