سندھ حکومت نے چار سیٹوں والے رکشوں پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ہے اور موٹر وہیکلز رولز میں وسیع پیمانے پر ترامیم تجویز کی ہیں، جو صوبے بھر میں ٹریفک قوانین اور نفاذ میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ ہے۔

یہ فیصلہ صوبائی وزیرِ قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں اہم اصلاحات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جنہیں اب سندھ کابینہ سے باضابطہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

نئے قوانین کے تحت صرف ایک بائے دو سیٹوں والے رکشوں کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت ہوگی۔

یہ پابندی روڈ سیفٹی (سڑکوں پر تحفظ)، ٹریفک نظم و ضبط کے نفاذ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے قواعد کو جدید بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت تمام کمرشل اور نان کمرشل گاڑیوں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ فٹنس سرٹیفیکیشن کے عمل سے تھرڈ پارٹی ایجنسیوں کے ذریعے گزریں، تاکہ شفافیت اور حفاظتی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترامیم میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جس کے تحت سرکاری گاڑیاں اگر یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی کریں گی تو ان پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

چار پہیوں والی عام گاڑیوں کے لیے یہ جرمانہ 1 لاکھ روپے ہوگا۔

موٹرسائیکل سوار اگر ٹریفک کی مخالف سمت میں گاڑی چلائیں گے تو ان پر 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔

بغیر لائسنس کے موٹرسائیکل چلانے پر بھی 25 ہزار روپے جبکہ کار چلانے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

نئے قواعد کے مطابق، تمام ہیوی اور کمرشل گاڑیوں میں کم از کم پانچ نگرانی کیمرے نصب کرنا لازمی ہوگا۔

اس کے علاوہ واٹر ٹینکرز اور ڈمپر گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکرز اور موشن سینسرز کی تنصیب لازم ہوگی، تاکہ ان کی نگرانی اور حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔

حکومت نے آن لائن یا مارکیٹ میں بلیک ٹنٹڈ شیشوں، فینسی لائٹس اور ہُوٹرز کی فروخت پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئے نظام کے تحت ای چالان براہ راست گاڑیوں کے مالکان کے رجسٹرڈ پتے پر بھیجے جائیں گے۔

ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور ایکسائز کے محکموں کو ایک مربوط نظام کے تحت منسلک کیا جائے گا تاکہ بہتر رابطہ کاری اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

جن گاڑیوں پر ٹریفک چالان واجب الادا ہوں گے انہیں فروخت یا منتقلی کے قابل نہیں سمجھا جائے گا۔

ٹریفک خلاف ورزیوں کے مقدمات کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے ٹریفک مجسٹریٹ کا نیا عہدہ تخلیق کیا جائے گا۔

ون ویلنگ اور کار ڈرفٹنگ جیسے خطرناک کرتب دکھانے پر پہلی بار خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جب کہ دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت تر سزائیں دی جائیں گی۔

اجلاس میں آئی جی سندھ پولیس، محکمہ قانون، ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ، اور ایکسائز کے سیکریٹریز کے ساتھ ساتھ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے بھی شرکت کی۔

محکموں کے درمیان باہمی تعاون سندھ حکومت کی جانب سے شہری ٹریفک نظام اور سڑکوں پر تحفظ کو بہتر بنانے کے سنجیدہ عزم کا مظہر ہے۔