پاکستان نے جمعہ کے روز بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں اور جنوبی لبنان کے دیگر حصوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون، لبنان کی خودمختاری، اور نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
جمعرات کی شب اسرائیلی فضائی حملوں نے لبنان کے دارالحکومت کے جنوبی نواحی علاقے، جو ضاحیہ کے نام سے معروف ہیں، کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عید سے ایک روز قبل ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ لبنانی حکام نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بیروت کے جنوبی نواح میں کم از کم دس مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور بمباری کا یہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی فوج نے علاقے میں چار مقامات پر انخلاء کی وارننگ جاری کی تھی۔
ادھر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طاقت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے شہری جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے، علاقائی عدم استحکام کو ہوا مل رہی ہے اور دیرپا امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں لبنان کے عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
بیان میں عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور جنگ بندی کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں، اسرائیلی قابض افواج کو جوابدہ بنائیں اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل طور پر حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیلی فوج مسلسل جنوبی لبنان کو نشانہ بنا رہی ہے، جب کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اب بھی پانچ پہاڑی چوکیوں پر قابض ہیں۔ جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل اب تک تین مرتبہ بیروت کے نواحی علاقوں پر حملے کر چکا ہے جنہیں عموماً لبنان سے راکٹ حملوں کے جواب میں انجام دیا گیا۔
تاہم حزب اللہ نے ان راکٹ حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اپنے فلسطینی اتحادی حماس سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر راکٹ فائر کیے تھے۔