مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 0.4 فیصد رہتا ہے جو حکومت کا ہدف بھی ہے، تو روپیہ ایکسچینج ریٹ تقریباً 272 روپے فی ڈالر پر مستحکم ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، مالی سال 2025 کی شامل کردہ قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ شرح 282 روپے فی ڈالر سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔

مالی سال 2026 کے اختتام تک روپے کے مقابلے میں ڈالر کی شرح تبادلہ 291 یا اس سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جو 268 روپے کے مقابلے میں 23 روپے کا فرق ظاہر کرتی ہے۔

یہ فرق مالی سال 2026 کیلئے تقریباً 4.6 فیصد مہنگائی میں اضافے کے برابر ہے، اگر موجودہ شرح تبادلہ میں 23 روپے کا اضافہ کیا جائے تو مہنگائی میں کمی متوقع ہے جس کے نتیجے میں شرح سود میں بھی کمی آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں 1 فیصد کمی سے ملکی قرض کی سود کی ادائیگیوں میں 515 ارب روپے کی کمی ہوگی۔ چنانچہ 4.6 فیصد کمی سے قرض کے سود کی ادائیگیوں میں تقریباً 2,369 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔ اس طرح کے مالی وسائل کو زراعت، آئی ٹی خدمات اور ترقی کے محرک شعبے یعنی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔