خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی دیکھی گئی لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے شی جن پنگ کے دوبارہ تجارتی مذاکرات شروع کرنے کے بعد، دنیا کی دو بڑی معیشتوں میں ترقی اور مانگ میں اضافے کی توقعات کے باعث یہ قیمتیں تین ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار تیزی کی جانب گامزن ہیں ۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 12 سینٹ یا 0.2 فیصد کی کمی سے 65.22 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ نے بھی 15 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی دکھائی اور 63.22 ڈالر پر آ گیا جب کہ جمعرات کو اس میں تقریباً 50 سینٹ کا اضافہ ہوا تھا۔
ہفتہ وار بنیاد پر، دونوں اہم اشاریے دو مسلسل ہفتوں کی کمی کے بعد تیزی پر گامزن ہیں ۔ برینٹ رواں ہفتے 2.1 فیصد بڑھ چکا ہے جبکہ وی ٹی آئی 4 فیصد اضافے کے ساتھ تجارت کررہا ہے۔
مارکیٹ نے تجارتی محصولات کے مذاکرات اور اس ڈیٹا کی روشنی میں اتار چڑھاؤ جاری رکھا ہے جو دکھاتا ہے کہ تجارتی جنگ کی غیر یقینی صورتحال اور محصولات کے اثرات عالمی معیشت میں کس طرح منتقل ہورہے ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ شی جن پنگ اور ٹرمپ کے درمیان تجارتی مذاکرات واشنگٹن کی درخواست پر ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس گفتگو کا نتیجہ بہت مثبت رہا اور مزید کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ اور تجارتی معاہدے کے حوالے سے بہت اچھے حالات میں ہے۔
دوسری جانب، کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں وزیر اعظم مارک کارنی ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں۔
مارکیٹ کو کینیڈا میں جاری جنگلات کی آگ کی وجہ سے پیداوار میں کمی سے بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔
سعودی عرب کے ٹاپ برآمد کنندہ نے ایشیا کے لیے جولائی کے خام تیل کی قیمتوں میں دو ماہ کی کم ترین سطح کے قریب کمی کی ہے۔ یہ قیمت میں کمی توقع سے کم تھی جبکہ اوپیک پلس نے جولائی میں روزانہ 411,000 بیرل اضافی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔