نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے مارچ 2025 کے لیے کراچی کے صارفین کے لیے فی یونٹ 3 روپے کی کمی جبکہ اپریل 2025 کے لیے ڈسکوز کے صارفین کے لیے فی یونٹ 0.93 روپے کے اضافے کی اجازت دے دی ہے، جو ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میکانزم کے تحت کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں نیپرا نے علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں جن کے مطابق کے-الیکٹرک کی منفی ایڈجسٹمنٹ اور ڈسکوز کی مثبت ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق جون 2025 کے بلوں میں ہوگا۔

ڈسکوز کے لیے نیپرا نے 29 مئی 2025 کو عوامی سماعت کی جبکہ کے-الیکٹرک کے لیے 22 مئی 2025 کو سماعت کی گئی، جس میں صنعتی شعبے اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ڈسکوز کی ایف سی اے کی سماعت کے دوران تجزیہ کار عامر شیخ نے کہا کہ مثبت ایڈجسٹمنٹ نے پہلے سے اعلان کردہ 7.7 روپے فی یونٹ کی رعایت کو کم کر دیا ہے، جس سے کئی صنعتی صارفین کے لاگت کے تخمینے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ مقامی گیس کی دستیابی کے باوجود آر ایل این جی پر مبنی پاور پلانٹس کو کیوں چلایا گیا، جبکہ ماری پٹرولیم جیسے متبادل سپلائرز زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔

کے-الیکٹرک نے سماعت کے دوران جولائی 2023 سے مارچ 2025 تک جزوی لوڈ، اوپن سائیکل، ڈیگریڈیشن گروو اور اسٹارٹ اپ لاگت کی مد میں 15.2 ارب روپے کا دعویٰ کیا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ سابق ایم وائی ٹی دور کے لیے بی کیو پی ایس-III اور کے سی سی پی پاور پلانٹس کی ہیٹ ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے 0.6 ارب اور 0.2 ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔

اپریل 2025 کے لیے کے-الیکٹرک نے 5.02 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی تھی تاکہ صارفین کو 6.792 ارب روپے کی رقم واپس کی جا سکے۔

البتہ نیپرا نے پہلے ہی نومبر 2024 سے فروری 2025 کے درمیان ایف سی اے کی مد میں 12.45 ارب روپے روک رکھے ہیں تاکہ بعد میں صارفین پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ مارچ 2025 تک 2.74 ارب روپے کی رقم جزوی لوڈ، اوپن سائیکل اور دیگر عوامل کی مد میں واجب الادا رہی۔

اسی اصول کو برقرار رکھتے ہوئے نیپرا نے مارچ کے لیے 5.02 روپے فی یونٹ کی منفی ایف سی اے میں سے 2.74 ارب روپے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، اور باقی 2.99 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی ہے، جس سے کراچی کے صارفین کو 4 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔

نیپرا کے ٹیکنیکل ممبر رفیق احمد شیخ نے دونوں فیصلوں پر اضافی نوٹس بھی لکھے ہیں جن میں مختلف نکات اٹھائے گئے ہیں۔

ڈسکوز کے ایف سی اے فیصلے پر اپنے نوٹ میں انہوں نے کہا کہ گڈو پاور پلانٹ کے 747 میگاواٹ اسٹییم ٹربائن (یونٹ 16) کی طویل معطلی کے باعث اوپن سائیکل موڈ میں چلانے کی ضرورت پڑی، جس کے باعث صرف اپریل 2025 میں ہی 670 ملین روپے (تقریباً 2.38 ملین ڈالر) اضافی لاگت آئی۔

مجموعی طور پر جولائی 2022 سے اس بندش کے باعث 113 ارب روپے (402.14 ملین ڈالر) کا مالی نقصان ہو چکا ہے۔ اس اہم مسئلے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جنکو-II کے سی ای او کو ہر ماہ ایف سی اے میٹنگ میں اس یونٹ کی بحالی کے منصوبے اور پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025