کاروبار اور معیشت

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ

انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کو پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.07 فیصد اضافہ ہوا۔ صبح 9 بج کر 45...
شائع June 5, 2025 اپ ڈیٹ June 5, 2025 04:56pm

انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.02 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 5 پیسے بڑھنے کے بعد روپیہ 282.17 روپے پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ بدھ کو روپیہ 282.22 پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر، جمعرات کے روز امریکی ڈالر کمزور دکھائی دیا اور چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، کیونکہ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے سست رفتار نمو اور بلند افراطِ زر کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جبکہ یورو میں استحکام دیکھا گیا کیونکہ سرمایہ کار یورپی سینٹرل بینک کی متوقع شرح سود میں کمی کا انتظار کر رہے ہیں۔

کمزور معاشی اعداد و شمار کے مطابق، مئی میں امریکی خدمات کا شعبہ تقریباً ایک سال میں پہلی بار سکڑ گیا ہے، جبکہ لیبر مارکیٹ میں بھی نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس صورتحال نے امریکی ٹریژریز میں تیزی پیدا کی ہے، اور 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ چار ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر معمولی بڑھی ہے اور یہ 142.80 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ یورو 1.1424 ڈالر پر مستحکم ہے، جو رواں ہفتے کے آغاز میں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔ برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 1.3557 ڈالر رہی۔

منڈیوں میں ہلچل اس وقت شروع ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل کو دنیا بھر کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا، بعدازاں کچھ ٹیرف کو موخر کر دیا اور نئے متعارف کرا دیے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو امریکی اثاثوں سے ہٹ کر متبادل کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔

ڈالر کی کمزوری رواں سال کی اہم کہانی بنی ہوئی ہے، اور رائٹرز کے ایک حالیہ سروے میں فارن ایکسچینج ماہرین نے امریکی وفاقی خسارے اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے خدشات کے باعث ڈالر میں آئندہ مزید گراوٹ کی پیش گوئی کی ہے۔

ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 98.749 پر ہے اور رواں سال اب تک تقریباً 9 فیصد کم ہو چکا ہے، جو 2017 کے بعد اس کی سب سے کمزور سالانہ کارکردگی بن سکتی ہے۔

کرنسی کی برابری کے ایک اہم اشاریے کے طور پر تیل کی قیمتوں میں بھی جمعرات کی ابتدائی تجارت میں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ امریکہ میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں اضافے اور سعودی عرب کی جانب سے ایشیائی خریداروں کے لیے جولائی کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 21 سینٹ یعنی 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 64.65 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت 29 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 62.58 ڈالر پر آ گئی۔

بدھ کے روز تیل کی قیمتیں تقریباً 1 فیصد نیچے بند ہوئیں، کیونکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر توقعات سے زیادہ بڑھے، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں کمزور طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

(یہ ایک انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے)