وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو اب 2500 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور نیشنل گرڈ پر سنگین اثرات ڈال رہی ہے۔

بدھ کے روز پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی منتقلی کے حوالے سے ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سولر انڈسٹری کے ماہرین، متعلقہ سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر توانائی نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ حکومت نیٹ میٹرنگ کو ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کے موجودہ فریم ورک کو زیادہ مؤثر، شفاف اور پائیدار ماڈل میں ڈھالنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 18-2017 میں اس نظام کے ابتدائی مراحل میں نیٹ میٹرنگ متعارف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب چونکہ نیٹ میٹرنگ کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، اس کے قومی گرڈ پر سنجیدہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں جنہیں بروقت حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کسی صارف یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں، اور تمام فیصلے قومی مفاد اور طویل مدتی توانائی کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں۔

وزیر توانائی نے مزید وضاحت کی کہ حکومت نیٹ میٹرنگ صارفین سے کم ترین نرخوں پر بجلی خریدنے کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ اگر فی یونٹ خریداری کا کوئی ذکر ہے تو اس پر بات چیت جاری ہے کہ اسے توانائی کی خریداری کی قیمت سے منسلک کیا جائے، تاکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ نظام خود بخود ایڈجسٹ ہو سکے۔ یہ تمام تجاویز زیر غور ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر نیٹ میٹرنگ صارفین کو تقریباً تین سال میں اپنی سرمایہ کاری کی واپسی ہو رہی ہے تو یہ ایک قابل قبول تجارتی ماڈل ہے۔ اگر کوئی صارف اپنی پیدا کردہ بجلی کا 40 فیصد استعمال کرتا ہے تو تین سالہ واپسی کا دورانیہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔ یہ اصلاحات حوصلہ شکنی کے لیے نہیں بلکہ بہتر، متوازن اور پائیدار نظام کی جانب منتقلی کے لیے کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے ملک میں جاری توانائی اصلاحات کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 9,000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبے ختم کیے جو بجلی کے نظام پر بوجھ بنے ہوئے تھے۔

مزید برآں، کیپٹیو پاور استعمال کرنے والے صارفین پر لیوی عائد کر کے انہیں واپس گرڈ پر لایا گیا جس سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا۔ جون 2024 سے اب تک صنعت کو 174 ارب روپے کی کراس سبسڈی فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں صنعتی بجلی کے نرخوں میں 31 فیصد تک کمی اور کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 14 سے 18 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی اصلاحات کے عملی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت نے بڑے نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدے دوبارہ طے کیے جس سے نرخوں میں کمی ہوئی، اور غیر ضروری منصوبوں کو طویل مدتی توانائی منصوبہ بندی سے نکال دیا گیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کے پاس اس وقت 7,000 میگاواٹ اضافی بجلی دستیاب ہے، جو صنعتی اور زرعی شعبے کو بغیر کسی سبسڈی کے 7 سے 7.5 سینٹ فی یونٹ پر فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس اسکیم کی منظوری کے لیے حکومت گزشتہ چھ ماہ سے آئی ایم ایف سے مشاورت کر رہی ہے، حالانکہ کوئی براہ راست مالی دباؤ موجود نہیں۔ مقصد بجلی کی طلب و رسد میں توازن پیدا کرنا اور نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرڈ کی بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور مربوط و آف گرڈ نظام کے لیے جدید اور مؤثر حل تیار کیے جا رہے ہیں۔

وزیر توانائی نے اعادہ کیا کہ تمام اصلاحات ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ہیں اور کوئی بھی فیصلہ جلد بازی یا عارضی بنیادوں پر نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا: ”یہ وقت ہے کہ ہم اپنے توانائی کے نظام کو جدید بنائیں۔“ اسٹیک ہولڈرز کی دی گئی تجاویز پر مثبت پیش رفت ہو گی، تاکہ یہ عمل زیادہ مؤثر، جامع اور سب کے مفاد میں ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025