وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ بندی پائیدار اور دیرپا ثابت ہوگی۔ یہ بات وزیرِاعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔
وزیراعظم نے یہ گفتگو امریکی سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے ابتدائی ترقیاتی منصوبوں، جیسے ڈیموں کی تعمیر، میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے 9/11 کے بعد پاکستان کی قربانیوں کو اجاگر کیا، کہ کس طرح ایک فرنٹ لائن ریاست کی حیثیت سے پاکستان نے 90 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔
انہوں نے پہلگام واقعے کو ایک جعلی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی جارحیت کے باوجود، جس میں پاکستان نے چھ بھارتی طیارے گرا کر اپنے دفاع کا حق استعمال کیا، پاکستان نے بردباری کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ”امن کا داعی“ قرار دیا، جنہوں نے مئی کے مہینے میں جھڑپوں کے دوران امریکی حکام کی مداخلت کے بعد جنگ بندی کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔