پاکستان بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر بے چین، یہ بات بدھ کے روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خظاب کرتے ہوئے کہی ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں حالیہ بدترین فوجی تصادم کے بعد بھی کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی ہے۔

گزشتہ ماہ دونوں جانب سے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے چار روز تک شدید جھڑپیں ہوئیں، جو دہائیوں میں بدترین لڑائی تھی، جس کے بعد 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ (بھارت) مذاکرات کی بات کریں گے، چاہے جس سطح پر ہو، ہم تیار ہیں، مگر ہم بے تاب نہیں ہیں۔

حالیہ لڑائی کا محرک 22 اپریل کو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والا ایک حملہ تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تمام اہم امور، بشمول آبی تنازعات، پر جامع مذاکرات کا خواہاں ہے جبکہ بھارت صرف دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے اُس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جس میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات صرف دہشت گردی تک محدود ہونے چاہئیں، یہ رویہ قابلِ قبول نہیں۔ ہم سے زیادہ سنجیدہ کوئی نہیں۔ بات چیت کے لیے دونوں فریقوں کا آمادہ ہونا ضروری ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اسحاق ڈار کے بیان پر تبصرے کے لیے دی گئی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

نئی دہلی اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔

پاکستان خاص طور پر پانی کے حقوق پر بات چیت کا خواہاں ہے کیونکہ بھارت نے 22 اپریل کے حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے بہنے والے تین دریاؤں سے 80 فیصد زرعی پانی کی ضمانت دیتا ہے۔