حکومت کی قابل تجدید توانائی مہم کے تحت پاکستان بھر کے 155 ریلوے اسٹیشنوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔

وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ پیش رفت بدھ کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آئی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو پاکستان ریلوے میں جاری اصلاحات پر بریفنگ دی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کئی معطل شدہ ریلوے سروسز دوبارہ شروع کردی گئی ہیں۔ حال ہی میں بولان میل کو روزانہ چلنے والی سروس کے طور پر بحال کیا گیا ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان ایکسپریس اور خوشحال خان خٹک ایکسپریس ٹرینیں بھی دوبارہ بحال کردی گئی ہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ سکھر، خانیوال اور کوہاٹ میں واقع کنکریٹ سلیپر فیکٹریوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل جاری ہے۔

مزید برآں، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور سکھر میں ریلوے کے تحت چلنے والے اسپتال، اسکول، کالجز اور ریسٹ ہاؤسز بھی ریونیو شیئرنگ ماڈل کے تحت آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ لاہور میں واقع رائل پام گالف اینڈ کنٹری کلب کو نیلام کیا جا رہا ہے، جہاں ایک فائیو اسٹار ہوٹل قائم کیے جانے کا امکان بھی زیر غور ہے۔

ریلوے نظام کی جدید کاری کے تحت ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان ریلوے کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کی تنظیم نو بھی برق رفتاری سے جاری ہے۔

تنظیم نو کے عمل کے تحت پاکستان ریلوے ایڈوائزری اینڈ کنسلٹنسی سروسز، ریل کاپ، پاکستان ریلوے فریٹ ٹرانسپورٹ کمپنی اور پراجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ جیسے ادارے ختم کر دیے گئے ہیں جب کہ 10 ارب روپے مالیت کی ریلوے اراضی بھی واپس حاصل کرلی گئی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتِ پنجاب کے تعاون سے کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں لاہور اور راولپنڈی کے درمیان ہائی اسپیڈ ٹرین سروس، لاہور اور راولپنڈی ریلوے اسٹیشنوں کی اپگریڈیشن اور پنجاب کے اندر آٹھ برانچ لائنوں پر مضافاتی ٹرین سروسز شامل ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ شاہدرہ باغ سے کوٹ لکھپت ریلوے لائن کے دونوں طرف گرین بیلٹ تیار کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، بلوچستان حکومت کے تعاون سے سریاب-کوچلاک اور کوئٹہ-چمن ریلوے لائن کے سیکشنز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کے نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک پلان بنانے کی ہدایت دی تاکہ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے حکام کو گوادار کو پاکستان ریلوے کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دی۔