پاکستان نے ترکیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور اس سلسلے میں متعدد اقدامات زیر غور ہیں جن میں گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے، نجکاری اور آف شور ڈرلنگ منصوبوں میں ترکیہ کی شمولیت شامل ہے۔

ترکیہ اور آذربائیجان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران کھل کر پاکستان کی حمایت کی، جس کے بعد دونوں ممالک کی کمپنیوں کو بھارت میں حکومتی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ اور آذربائیجان کا دورہ کیا تاکہ ان ممالک کی غیرمشروط حمایت پر پاکستان کی جانب سے اظہار تشکر کیا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 25 مئی 2025 کو اپنے سرکاری دورۂ ترکیہ کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔

باخبر ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کیں۔ وزیراعظم نے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کو ہدایت کی کہ کراچی میں ترک کمپنیوں کے لیے مختص خصوصی اکنامک زون (ایس ای زیڈ) کے لیے فوری طور پر زمین الاٹ کی جائے۔ یہ زون ”صدر رجب طیب اردوان خصوصی صنعتی/اقتصادی زون“ کہلائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان-ترکیہ جوائنٹ کمیشن کے اگلے اجلاس کی تاریخ جلد از جلد طے کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔

وزارت نجکاری اور وزارت دفاع کو ہدایت کی گئی کہ ایئرپورٹس کی نجکاری کے عمل میں ترک کمپنیوں کو شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی ملجم کلاس بحری جہازوں کی ادائیگی میں تیزی لانے اور دفاع و انسداد دہشتگردی میں اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور وزارت صحت کو ہدایت دی گئی کہ وہ جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبوں میں ترک کنسلٹنٹس/فرمز کو شرکت کی دعوت دیں۔ اس سلسلے میں 2 جون 2025 کو ترکیہ میں روڈ شو منعقد کیا گیا، جس میں دانش یونیورسٹی نے بھی شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق، پیٹرولیم ڈویژن اور وزارت آبی وسائل کو ہدایت کی گئی کہ ترک ماہرین کے وفد کو پاکستان مدعو کیا جائے تاکہ آف شور ڈرلنگ اور پانی کے ذخائر میں بہتری لائی جا سکے۔ پاور ڈویژن، نجکاری ڈویژن، وزارت خارجہ اور پاکستان کے سفیر برائے ترکیہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے ترک ماہرین سے رابطہ کریں۔

وزارت بحری امور، وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی کہ گوادر بندرگاہ کے فعال ہونے میں ترک شمولیت کے امکانات تلاش کریں۔ وزارت ریلوے اور وزارت خارجہ کو ہدایت دی گئی کہ استنبول-تہران-اسلام آباد ریلوے منصوبے پر تبادلہ خیال کے لیے ترک وفد کو پاکستان مدعو کریں۔

وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو ہدایت دی کہ شمالی قبرص ترک جمہوریہ (ٹی آر این سی) کے تجارتی دفتر کو قونصل خانے میں اپ گریڈ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے لیے حمایت کے بیان کے اجرا پر غور کریں۔

چیف سیکریٹری آزاد جموں و کشمیر حکومت کو ہدایت دی گئی کہ 48 گھنٹوں کے اندر مظفرآباد میں معارف فاؤنڈیشن کے لیے اسکول کی تعمیر کے لیے زمین الاٹ کی جائے، جس کی دستاویز وزیراعظم خود ترکیہ کے سفیر کے حوالے کریں گے۔

ان تمام ہدایات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے وزیراعظم آفس میں ایک نگران کمیٹی قائم کی جائے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025