وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان میں جاری اسٹرکچرل اصلاحات نے ملک کو پائیدار ترقی کے لیے ”بہترین طور پر تیار“ کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے چیئرمینز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کے دوران کہی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت کرنا چاہتے تھے، تاہم پاکستان میں جاری سالانہ بجٹ سیشن کے باعث وہ چین کا سفر نہ کر سکے۔
اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے پاکستان کے حالیہ معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس، مالیاتی لحاظ سے پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی بدولت مستحکم کرنسی، اور کئی برسوں بعد کم ترین سطح کی مہنگائی جیسے مثبت اشاریے حاصل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار درجہ بندی کو بہتر بنایا ہے۔یہ سب ان اصلاحات کی بدولت ہے جو مختلف شعبوں جیسے ٹیکس نظام، سرکاری اداروں (ایس او ایز)، توانائی اور عوامی مالیات میں جاری ہیں۔ ہم اس اصلاحاتی راستے پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہیں اور آنے والے سال میں پائیدار ترقی کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وژن اور اصولوں کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او ایک نہایت اہم پلیٹ فارم ہے جو علاقائی تعاون، معاشی روابط میں بہتری، اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے، جو شنگھائی اسپرٹ اور ایس سی او چارٹر کے عین مطابق ہے۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او کے فریم ورک کے تحت تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی انضمام میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں جیسے اقدامات تجویز کیے جو تمام رکن ممالک کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، انہوں نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی کاوشوں جیسے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز کو اجاگر کیا، جو مالیاتی خدمات تک رسائی میں نمایاں توسیع کے لیے کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے عالمی سطح پر معاشی سست روی، بڑھتی ہوئی اقتصادی ناہمواری، تحفظ پسندی کی لہر، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل پر اجتماعی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور ایسی پائیدار ترقی کو اپنانے کا مطالبہ کیا جو تمام رکن ممالک کے لیے فائدہ مند ہو۔
انہوں نے کہا، ”پاکستان سمجھتا ہے کہ ایس سی او کے رکن ممالک عالمی جنوب میں درپیش ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات اور بہترین عملی طریقوں سے سیکھ سکتے ہیں۔“
انہوں نے خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور علاقائی رابطے کو معیشت کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا، اور ٹرانسپورٹ، توانائی، اور ڈیجیٹل روابط بہتر بنانے کے اقدامات کی حمایت کی۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے ایک اہم ادارہ قرار دیا جو انفراسٹرکچر فنانسنگ، ترقی کے فروغ، اور علاقائی معاشی انضمام کو گہرا کرنے میں مدد دے گا۔
انہوں نے اس بینک کو ایک مستقبل بین ادارہ تصور کیا جو ڈیجیٹل فنانس، فن ٹیک اختراعات، اور گرین فنانسنگ جیسے جدید عناصر کو اپنے نظام کا حصہ بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک کے قیام سے متعلق تکنیکی تفصیلات پر بات چیت کے منتظر ہیں۔
وزیر خزانہ نے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی عملی شروعات کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ نیٹ ورک مالیاتی تعاون کے لیے تحقیق، تجزیہ، اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر خزانہ نے ایس سی او فریم ورک کے تحت اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری اجتماعی کوششیں خطے میں معاشی خوشحالی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دیں گی۔