کاروبار اور معیشت

قیمتوں میں گٹھ جوڑ، فرٹیلائزر کمپنیوں اور ایف ایم پی اے سی پر 375 ملین روپے جرمانہ عائد

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی ) نے کھاد شعبے میں ساز باز اور من مانی قیمتیں مقرر کرنے پر متعدد کمپنیوں اور ایک...
شائع اپ ڈیٹ

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی ) نے کھاد کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ پر متعدد کمپنیوں اور ایک صنعتی تنظیم پر مجموعی طور پر 375 ملین روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔

منگل کو جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سی سی پی نے کھاد کے شعبے میں غیر مسابقتی رویے کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کی تصدیق کی ہے جس کے تحت 6 بڑے یوریا ساز اداروں پر ہر ایک کو 50 ملین روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔

مزید برآں فرٹیلائزر سیکٹر کی ایڈوائزری کونسل (ایف ایم پی اے سی) جو ایک اہم صنعتی تنظیم ہے کو بھی 75 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

سی سی پی بینچ جس میں ڈاکٹر کبیر احمد سدھو اور سلام امین شامل ہیں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 6 یوریا بنانے والی کمپنیوں یعنی فاطمہ فرٹیلائزر لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر بن قاسم لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، اینگرو فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور ایگریٹیک لمیٹڈ نے اپنی تجارتی ایسوسی ایشن، ایف ایم پی اے سی کے ساتھ ملکر آگاہی مہم کی آڑ میں قیمتیں طے کیں جس سے مارکیٹ میں شفافیت اور مسابقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق کھاد کمپنیوں کی پروڈکشن کاسٹ مختلف ہے تو قیمت یکساں کیسے ہے؟ فرٹیلائزر کمپنیوں نے آگاہی مہم کی آڑ میں قیمتیں طے کیں۔ پالیسی کے تحت فرٹیلائزر سیکٹر کی قیمتیں ڈی ریگولیٹیڈ ہیں۔

یہ عمل قانونی معلومات کی فراہمی کی حدود سے نکل کر مکمل طور پر مخالفِ مسابقت رویے کی حد میں داخل ہو چکا ہے، جو کہ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی واضح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

سی سی پی نے کہا ہے کہ اگرچہ کمپنیوں نے قیمتوں کی خود مختاری کا دعویٰ کیا لیکن وہ اپنی ہم آہنگ قیمتوں کی حکمت عملی کی کوئی معقول وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہیں۔

کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق کمیشن کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ رویہ صرف مسابقت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پاکستان بھر کے کسانوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے، خاص طور پر ربیع اور کھڑی فصل کے اہم موسموں میں، کیونکہ اس نے کھاد کی قیمتوں کو غیر حقیقی طور پر متاثر کیا۔