پاکستان کے میکرو اکنامک حالات میں بہتری، ایشیائی بینک سے 800 ملین ڈالر کا پروگرام منظور
- یہ پروگرام پاکستان کو طویل المدتی مالی مضبوطی اور استحکام فراہم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، اے ڈی بی
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے منگل کو پاکستان میں مالیاتی استحکام کو مضبوط اور پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے 800 ملین ڈالر کے پروگرام کی منظوری دے دی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موبلائزیشن ریفارم پروگرام (سب پروگرام دوم) کے تحت 300 ملین ڈالر کا پالیسی پر مبنی قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اے ڈی بی پہلی بار 500 ملین ڈالر تک کی پالیسی پر مبنی ضمانت بھی دے رہا ہے۔ اس تاریخی اقدام کے ذریعے کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر تک کی مالی معاونت متحرک کیے جانے کی توقع ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے کہا ہے کہ پاکستان نے میکرو اکنامک حالات کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام حکومت کے اُس عزم کی حمایت کرتا ہے جو وہ پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے رکھتی ہے، تاکہ پبلک فنانس کو مضبوط بنایا جاسکے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اے ڈی بی کے مطابق یہ پروگرام ٹیکس پالیسی، ٹیکس وصولی اور عملدرآمد کو بہتر بنانے کیلئے وسیع تر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے جبکہ سرکاری اخراجات اور نقدی کے نظم ونسق کو بھی مؤثر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ پروگرام ڈیجیٹلائزیشن، سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور نجی شعبے کی ترقی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
مالیاتی ادارے کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کے مالی خسارے اور سرکاری قرضوں کو کم کرنے کے ساتھ سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ یہ پروگرام ایک جامع امدادی پیکج پر مبنی ہے جس میں تکنیکی معاونت اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون شامل ہے، جس کا مقصد پاکستان کو طویل مدتی مالی استحکام اور مضبوطی فراہم کرنا ہے۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے اس منظوری کو وزارت خزانہ اور وزارت اقتصادی امور کی قیادت میں ایک سفارتی کامیابی قرار دیا۔
خرم شہزاد نے ایکس پر لکھا کہ اقتصادی امور کی وزارت اور وزارت خزانہ کی قیادت میں سفارتکاری نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ میں اکثریتی حمایت حاصل کرلی ہے۔
اپریل میں اے ڈی بی نے مالی سال 2025 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی 2.5 فیصد تک کم کر دی تھی، ساتھ ہی کہا تھا کہ ملک کا مستقبل حدِ زیادہ جاری اقتصادی اصلاحات کی کامیابی پر منحصر ہے۔