پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کی جانب سے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو وفاقی بجٹ 2025-26 کے لیے اپنی سفارشات پیش کردی ہیں۔

ان تجاویز میں ٹیرف اصلاحات، ایس ایم ایز کی تعریف میں ہم آہنگی، مالی معاونت تک بہتر رسائی، اور ٹیکس کمپلائنس کو آسان بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں تاکہ جامع صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور مسابقت میں اضافہ ہوسکے۔

پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے)ملک بھر میں 300 سے زائد پلاسٹک ساز اداروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

اپنی تجاویز میں پی پی ایم اے نے ان خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو مقامی طور پر تیار نہیں ہوتے، اور ایسی ڈیوٹی اسٹرکچر کی حمایت کی ہے جو مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرے۔

ایسوسی ایشن نے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے ایس ایم ایز کی متضاد تعریفوں پر بھی توجہ دلائی اور مطالبہ کیا کہ ان تعریفوں کو موجودہ معاشی حقائق کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ایس ایم ایز سرکاری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ٹیکس کمپلائنس کے مسائل پر بات کرتے ہوئے پی پی ایم اے نے حالیہ پیچیدہ فائلنگ سسٹم سے چھوٹ دینے کی تجویز دی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچررز کو فائدہ ہو سکے۔ اس ضمن میں ایک مرحلہ وار نظام تجویز کیا گیا ہے جو سائز کی بنیاد پر ہو اور ایس ایم ایز پر بوجھ کم کرے۔

فنانسنگ کی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے پی پی ایم اے نے 6 فیصد مارک اپ پر ورکنگ کیپیٹل لون اور آسان ادائیگیوں کی شرائط کی تجویز دی ہے۔

ایسوسی ایشن نے کولیٹرل شرائط میں بھی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور مشینری پر مبنی فنانسنگ کی سہولت اور سبسڈائزڈ قرضوں کی شفافیت و نگرانی کے لیے ایک آن لائن پورٹل کے قیام کی سفارش کی ہے۔

مزید برآں ایس ایم ایز کی کریڈٹ بڑھانے کے لیے ایک عوامی سطح پر قابلِ رسائی الیکٹرانک کریڈٹ ریٹنگ پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار پر مبنی ہو۔

پی پی ایم اے نے خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی پارکس میں زمین کے حصول اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے مراعات کی سفارش بھی کی ہے، جن میں سبسڈائزڈ زمین اور طویل المدتی فنانسنگ کے آپشنز شامل ہیں۔

پی پی ایم اے کے چیئرمین سید نبیل ہاشمی نے کہا کہپلاسٹک مینوفیکچرنگ کا شعبہ پاکستان میں صنعتی ترقی اور روزگار کا اہم محرک ہے۔ ہماری سفارشات ایک ایسا سازگار ماحول بنانے کے لیے تیار کی گئی ہیں جو ایس ایم ایز کی معاونت کرے، منصفانہ مقابلے کو فروغ دے اور جدت و برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرے۔ہم حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں تاکہ آنے والا بجٹ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مؤثر معاونت فراہم کرے۔

انہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کے عزم کو دہراتے ہوئے پائیدار معاشی ترقی میں شراکت جاری رکھنے کا وعدہ بھی کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025