کراچی میں پیر کی رات دیر گئے درجنوں قیدی جیل سے فرار ہوگئے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ملیر جیل کے باہر میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گزشتہ روز علاقے میں متعدد مرتبہ آنے والے زلزلوں نے قیدیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جیل کی دیوار نہیں توڑی گئی بلکہ قیدیوں نے اندرونی انتشار سے فائدہ اٹھایا۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ فرار ہونے والے 46 قیدیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کل کتنے قیدی فرار ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جیل سے فرار ہونے کے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔

واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات کراچی میں کئی ہلکے زلزلے محسوس کیے گئے۔

محکمہ موسمیات نے ان دو دنوں کے دوران 6 زلزلے ریکارڈ کیے۔ پہلا زلزلہ یکم جون کو شام 5:33 بجے آیا، جس کی شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی اور گہرائی 10 کلومیٹر تھی، جس کا مرکز قائدآباد کے قریب تھا۔

پیر 2 جون کو مزید 5 زلزلے آئے جن کی شدت 2.2 سے 3.2 کے درمیان رہی۔ ان زلزلوں کے مرکز قائدآباد، گڈاپ ٹاؤن اور ملیر کے جنوب مشرق کے قریب رپورٹ کیے گئے، جن کی گہرائیاں 10 سے 188 کلومیٹر تک مختلف تھیں۔