انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی معمولی تنزلی ہوئی، جس کی قدر میں 0.05 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 282.12 پر بند ہوا، جس سے روپے کی قدر میں 15 پیسے کی کمی واقع ہوئی۔

یاد رہے کہ پیر کو ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.97 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر منگل کو چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی تجارتی جنگ سے امریکی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات اور غیر یقینی صورتحال کا بڑھنا ہے۔

اگرچہ عالمی حصص بازاروں نے ٹیرف تھریٹ کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود عمومی طور پر اپنی بحالی دکھائی ہے لیکن امریکی ڈالر اپنی کمزوری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آئندہ دنوں میں امریکہ کی فیکٹری اور روزگار سے متعلق اعداد و شمار اس بات کی مزید نشاندہی کرسکتے ہیں کہ تجارتی غیر یقینی صورتحال دنیا کی سب سے بڑی معیشت پر کس حد تک منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ درآمدی اسٹیل اور المونیم پر عائد محصولات بدھ سے دگنے ہوکر 50 فیصد تک پہنچ جائیں گے ، یہ وہی دن ہے جب ٹرمپ انتظامیہ توقع کررہی ہے کہ ممالک اپنی بہترین تجاویز تجارتی مذاکرات میں پیش کریں گے۔

ڈالر انڈیکس اپریل کے آخری ہفتے کے بعد اپنی کم ترین سطح 98.58 تک گر گیا، تاہم بعد ازاں 0.3 فیصد کی تیزی کے ساتھ واپس اوپر آ گیا۔ اسی دوران امریکی ڈالر نے 0.3 فیصد کی مضبوطی دکھاتے ہوئے 143.21 ین کی سطح حاصل کر لی۔

ڈالر انڈیکس پیر کو 0.8 فیصد گرگیا تھا کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ امریکہ کی مینوفیکچرنگ مئی میں تیسری بار سکڑ گئی ہے اور تجارتی محصولات کی پیچیدگیوں کی وجہ سے سپلائرز کو سامان پہنچانے میں زیادہ وقت لگا۔ توجہ اب منگل کو جاری ہونے والے امریکی فیکٹری آرڈرز اور ہفتے کے آخر میں متوقع روزگار کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔

تیل کی قیمتیں، جو کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، منگل کے روز بڑھ گئیں۔ اس اضافے کی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں شدت اور ایران کی جانب سے امریکی جوہری معاہدے کی تجویز کو مسترد کرنے کی تیاری تھی، جو تیل پیدا کرنے والے اس بڑے ملک پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

پیر کے روز خام تیل کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی (اوپیک پلس) نے جولائی کے لیے یومیہ پیداوار میں اضافے کو 411,000 بیرل پر برقرار رکھا، جو پچھلے مہینوں کی طرح ہے اور مارکیٹ میں بعض کی توقع سے کم تھا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 43 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 65.06 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 50 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 63.02 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔