پاکستان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف بی آر کو 36.14 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کی اجازت دیدی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے تین بڑے مقدمات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے...
شائع June 3, 2025 اپ ڈیٹ June 3, 2025 08:58am

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے تین بڑے مقدمات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے 36.14 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کی اجازت دے دی۔

پیر کے روز وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ فیصلے وزیراعظم شہباز شریف کی سخت ہدایات کے بعد قانونی میدان میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ٹیکس وصولی کے طریقہ کار میں بہتری کے باعث ایف بی آر نے ان کیسز میں کامیابیاں حاصل کیں۔ کھربوں روپے مالیت کے متعدد کیسز مختلف ہائی کورٹس میں زیرِ التوا ہیں جو ٹیکس وصولی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ہفتے متعدد طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات میں ایف بی آر کے حق میں فیصلے سنائے، جن میں تین بڑے ٹیکس تنازعات شامل تھے۔

وزارت خزانہ کے مطابق ان مقدمات میں سب سے اہم بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ تھا، جس میں عدالت نے ایف بی آر کے حق میں 26.446 ارب روپے کی وصولی کو برقرار رکھا۔ یہ مقدمہ گزشتہ اڑھائی سال سے اپیلیٹ فورمز پر زیر التوا تھا۔

دو دیگر کارپوریٹ مقدمات، جن کی مجموعی مالیت 9.7 ارب روپے تھی، بھی ایف بی آر کے حق میں فیصلے ہوئے۔

یہ کامیابیاں وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کردہ جامع قانونی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں، جس کا مقصد ان طویل عرصے سے جاری مقدمات کو حل کرنا تھا جن میں کھربوں روپے کی آمدن رکی ہوئی تھی۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ پیش رفت ایف بی آر کی بہتر قانونی استعداد اور حکومتی نگرانی کے تحت مالیاتی اصلاحات کے عزم کی عکاس ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025