آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں شہری پر بہیمانہ تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم سلمان فاروقی کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ خیابان اتحاد پر پیش آیا، جس نے سوشل میڈیا پر شدید عوامی غصے کو جنم دیا اور فوری طور پر پولیس کو حرکت میں آنے پر مجبور کیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق سلمان فاروقی کو اُس کے ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈ سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں نے اُس کی گاڑی بھی قبضے میں لے لی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ حملہ کیمرے کی آنکھ میں قید ہو گیا تھا اور سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہوا۔
واقعے کی بنیاد پر گزرٰی تھانے میں عینی شاہد محمد اسلم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق سلمان فاروقی اور اُس کے محافظوں نے بلا اشتعال ایک موٹر سائیکل سوار پر حملہ کیا اور اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سلمان فاروقی، جو شہری پر بہیمانہ تشدد کے کیس میں مرکزی ملزم ہے، کسی سرکاری محکمے سے وابستہ نہیں، جیسا کہ ابتدائی اطلاعات میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
پولیس نے ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے رات گئے اس کے دفتر اور رہائش گاہ پر چھاپے مارے۔
حکام متاثرہ شہری کے اہلِ خانہ سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ واقعے کی مزید تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے اس کیس کو نہایت سنجیدگی سے لینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بااثر شخص قانون سے بالاتر نہیں، تمام ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ادھر سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ سے مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور شفاف کارروائی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر عوامی تشویش میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔