ایف بی آر کی بحریہ ٹاؤن کیخلاف بڑی قانونی کامیابی سمیت دیگر کارروائیوں میں 36.14 ارب روپے کی ریکوری
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اہم قانونی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف ایک بڑی کامیابی بھی شامل ہے، جس سے مجموعی طور پر 36.14 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی جو پہلے عدالتوں میں رکی ہوئی تھی۔
وزارتِ خزانہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی اور ایف بی آر کی قانونی حکمت عملی کو مضبوط بنانے اور عدالتی کارروائیوں میں نتائج حاصل کرنے کی ہدایات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
بیان کے مطابق ایف بی آر نے اپنے قانونی نظام میں خاطر خواہ بہتری کی ہے اور طویل عرصے سے التوا میں پڑے مقدمات کو حل کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایف بی آر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی پیروی تیزی سے کی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے عدالت نے مجموعی طور پر 36.14 ارب روپے مالیت کے مقدمات میں ایف بی آر کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔
گزشتہ ہفتے وفاقی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے لیے اہم قانونی کامیابیوں میں تین بڑے مالیاتی مقدمات شامل تھے، جن میں سب سے نمایاں بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف کیس تھا۔
اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف بی آر کے حق میں 26.446 ارب روپے کی ریکوری کا فیصلہ برقرار رکھا۔
یہ مقدمہ گزشتہ ڈھائی سال سے مختلف اپیلٹ فورمز پر زیر التوا تھا۔
اسی طرح دو دیگر کارپوریٹ مقدمات میں بھی، جن کی مجموعی مالیت 9.7 ارب روپے ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کامیابیاں حکومت کی معاشی اصلاحات کے عزم کا واضح ثبوت ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق ٹریلین روپے کی آمدنی مختلف قانونی تنازعات میں پھنسے ہوئے ہیں، جو قومی محصول کی وصولی میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔
اسی لیے ایک مربوط قانونی حکمت عملی تیار کی گئی تھی، جس کے تحت نمائندگی اور مقدمات کی پیروی کی گئی اور اب اس کے مثبت نتائج ایف بی آر کے لیے سامنے آنے لگے ہیں۔