شاہد آفریدی نے پیر کو خلیج ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں وہ جادو ہے جو لوگوں اور ممالک کے دلوں کو قریب کرسکتی ہے۔
شاہد آفریدی نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور باہمی روابط کی اہمیت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے سیاستدان بات نہیں کریں گے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں کھیلیں گے تو ہم مسائل کیسے حل کریں گے؟
شاہد آفریدی نے حالیہ تنازع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ اور سابق ٹیم ساتھی عمر گل کو 25 مئی کو پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کی عمارت میں منعقدہ انٹر کالجیئٹ ڈانس ایونٹ میں کیرالہ کے لوگوں نے نہایت پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا تھا۔
ایونٹ کی ویڈیو جس میں آفریدی کو بڑی تعداد میں بھارتی شائقین کی جانب سے زوردار تالیوں کے ساتھ خوش آمدید کہا جا رہا ہے، جلد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بھارت میں تنقید کو ہوا دی۔
انہوں نے اس ردعمل کو بلاوجہ اور غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئیے اسے سیاست کا موضوع نہ بنائیں، یہ ایک غیر متوقع ملاقات تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھارت میں ایک کرکٹر اور پاکستان کے کپتان کے طور پر جو عزت ملی، وہ بے حد متاثر کن رہی ہے۔
انہوں نے خلیج ٹائمز کو دیے گئےانٹرویو میں کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے اور دوبارہ کہوں گا: جو محبت مجھے وہاں ملی، وہ مجھے کہیں اور نہیں ملی، یہاں تک کہ پاکستان میں بھی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اکثر ایشیائی کمیونٹی کے افراد سے ملاقات کرتے ہیں اور ان سے بات چیت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جہاں بھی جاتا ہوں، بہت سے بھارتیوں سے ملتا ہوں۔ ہم بات کرتے ہیں، ہنستے ہیں، کرکٹ کی یادیں بانٹتے ہیں۔ باہمی احترام ہوتا ہے۔ ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔