پاکستان نے بھارت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانیے مسترد کردیے
- بھارت دھمکیوں، گمراہ کن بیانیوں یا طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا، دفتر خارجہ
پاکستان نے پیر کو بھارتی قیادت کے متعدد جارحانہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دھمکیوں، گمراہ کن بیانیوں یا طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی قیادت کے حالیہ دنوں میں بالخصوص بہار میں دیے گئے اشتعال انگیز بیانات ایک تشویشناک ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو امن کے بجائے دشمنی کو ترجیح دیتی ہے۔
پاکستان کو علاقائی عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینے کی ہر کوشش حقیقت سے دور ہے۔
دفترخارجہ کے مطابق بین الاقوامی برادری بھارت کے جارحانہ رویے کا بخوبی علم رکھتی ہے جس میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے معاونت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ایسے حقائق کو کھوکھلے بیانیوں یا توجہ ہٹانے کی حکمت عملی سے چھپایا نہیں جا سکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ کشمیری تنازع پر بات چیت تبھی ممکن ہوگی جب پاکستان آزاد جموں و کشمیر ہمارے حوالے کرے گا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع خطے میں امن و استحکام کیلئے بنیادی اور سنگین مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں کے مطابق ایک منصفانہ اور دیرپا حل کا مستحق ہے جس کے لیے پاکستان اپنا مضبوط موقف برقرار رکھے گا۔
فارن آفس نے مزید کہا کہ اس بنیادی مسئلے کو نظر انداز کرنا خطے کو مسلسل بے اعتمادی اور ممکنہ تصادم کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
فارن آفس نے مزید کہا کہ حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر قوم پرستی اور دباؤ کی مکمل بے سودی کو واضح کیا ہے اور بھارت دھمکیوں، غلط بیانی یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کریگا۔
پاکستان پرعزم ہے کہ امن اور تعمیری بات چیت کو فروغ دے گا لیکن کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔