انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی اور ڈالر کے مقابلے قدر میں 0.02 فیصد اضافہ ہوا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.97 روپے پر بند ہوا، اس طرح روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے 5 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یاد رہے کہ انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ روز ڈالر کے مقابلے روپیہ 4 پیسے یا 0.01 فیصد کی تنزلی سے 282.02 پر بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق روپیہ 282.02 روپے فی ڈالر پر بند ہوا جب کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر یہ شرح 282.06 روپے تھی۔
ماہرین کے مطابق درآمدات کی طلب بڑھنے سے مقامی کرنسی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی منڈیوں میں پیر کو ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی جس نے پچھلے ہفتے حاصل کردہ کچھ فوائد واپس کیے کیونکہ سرمایہ کار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیکس پالیسی کے مستقبل اور اس کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو معاشی ترقی کو روکنے اور مہنگائی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کے جمعہ کی رات دیر سے اعلان کے بعد کہ وہ بدھ سے درآمد شدہ اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات کو 50 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور بیجنگ کی جانب سے اہم معدنیات کی ترسیل سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کا سخت ردعمل سامنے آنے کے باعث، امریکی ڈالر نے ہفتے کا آغاز مندی کے ساتھ کیا ہے۔
امریکی ڈالر کی قدر 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 143.57 ین پر آ گئی اور اس نے پچھلے ہفتے کی ایک فیصد سے زائد کی تیزی کا کچھ حصہ واپس کردیا ہے۔
یورو نے 0.1 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 1.1362 ڈالر کی سطح حاصل کی، جبکہ اسٹرلنگ میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.3485 ڈالر پر پہنچ گیا۔
آسٹریلین ڈالر نے 0.3 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 0.6453 ڈالر کی سطح حاصل کی جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.4 فیصد بڑھ کر 0.5994 ڈالر پر پہنچ گیا۔
امریکی ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد کم ہو کر 99.283 پر آ گیا۔
امریکی کرنسی گزشتہ کئی ہفتوں سے ٹرمپ کی بار بار شروع اور ختم ہونے والی تجارتی جنگ کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، جس میں کشیدگی بڑھنے پر ممکنہ امریکی کساد بازاری کے خدشات جنم لیتے ہیں اور ڈالر کی قدر گرجاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں، جو کرنسی کی قدر کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، میں پیر کے روز تقریباً 3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب پیداواری ممالک کے گروپ اوپیک پلس نے جولائی میں پیداوار میں اضافے کو پچھلے دو ماہ کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 2.28 ڈالر، یا 3.63 فیصد بڑھ کر 65.06 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی (عالمی معیاری وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 18 منٹ تک)، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 2.45 ڈالر، یا 4.03 فیصد اضافے کے ساتھ 63.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
دونوں کنٹریکٹس نے گزشتہ ہفتے ایک فیصد سے زیادہ نقصان اٹھایا۔