حکومت نے کئی ماہ کی بات چیت اور قانونی کارروائیوں کے بعد بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سرکلر قرضے کو حل کرنے کے لیے تقریباً 18 کمرشل بینکوں کے ساتھ 1.275 کھرب روپے کے تاریخی قرضہ پیکیج کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسودہ معاہدے وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے منتظر ہیں۔

یہ قرض سرکلر قرضے کے ایک حصے کو کم کرنے کے لیے دیا جارہا ہے جو اس وقت تقریباً 2.3 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت نے اپنے سرکلر قرضے میں کمی کے منصوبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری بھی حاصل کرلی ہے جس میں کمرشل بینکوں سے قرض لینا شامل ہے۔ مجموعی قرضے میں سے تقریباً 700 ارب روپے پاور ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کی کتابوں میں بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کی طرف سے درج ہیں۔

آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران فنانس ڈویژن اور پاور ڈویژن نے کمرشل بینکوں کے ساتھ مذاکرات کی صورتحال اور مسودہ معاہدوں میں درج شرائط سے مشن کو آگاہ کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت کمرشل بینکز 617 ارب روپے کے نئے قرضے 10.50 سے 11 فیصد کی شرح سود پر فراہم کریں گے جو کراچی انٹر بینک آفرڈ ریٹ (کائبور) سے 0.2 فیصد کم ہوگی۔ قرض کی ادائیگیاں 6 سال میں ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے کی جائیں گی جو فی الحال صارفین سے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 3.23 روپے وصول کیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ساختی معیاروں کو پورا کرنے کے لیے، حکومت ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کی حد بندی ختم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جو اس وقت پاور کمپنیوں کی کل آمدنی کا 10 فیصد ہے، یہ اقدام ایک قانونی ترمیم کے ذریعے کیا جائے گا، جس سے پاور ہولڈنگ کمپنی کے اٹھائے گئے قرضوں کی سود کی ادائیگی اور جزوی قسطوں کی ادائیگی ممکن ہو گی، جو ڈسکوز کے بیلنس شیٹس میں شامل ہیں۔

ایک قابلِ اعتماد ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ بینکوں کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات اور شرائط کو مکمل کرلئے گئے ہیں اور توقع ہے کہ یہ عید سے قبل (اس ہفتے) وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ کمرشل بینکوں نے حکومت کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ضمانتیں طلب کی تھیں، تاہم ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکرات کاروں نے پاور سیکٹر کے ممکنہ بحران سے بینکوں کی سرمایہ کاری کو لاحق نظامی خطرے کی نشاندہی کی جو ایک ضمنی انتباہ تھا نہ کہ براہِ راست دباؤ۔ ایک حکومتی اہلکار نے واضح کیا کہ بینکوں کو صرف صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا تھا۔

حکومتی اہلکار کے مطابق یہ پاکستان میں ایک بہت بڑا اور بے مثال معاہدہ ہے، اس لیے فطری طور پر کئی پہلوؤں کو احتیاط سے حتمی شکل دینا ضروری تھا۔

اس منصوبے میں شامل ایک سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ بینکوں کے ساتھ تمام زیر التواء امور حل ہو چکے ہیں۔ “تمام بینکوں نے پچھلے ہفتے ابتدائی ٹرم شیٹ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اب یہ وفاقی کابینہ اور سی پی پی اے جی بورڈ کی منظوری کے منتظر ہے۔آئندہ ہفتے کابینہ کو ایک خلاصہ پیش کیا جائے گا، جس کے بعد تین سے چار ہفتوں میں قرض کی دستاویزات مکمل کر لی جائیں گی۔

قرض کی ادائیگیاں متوقع ہیں کہ موجودہ ماہ کے آخر سے قبل مکمل ہو جائیں تاکہ بجٹ دستاویزات میں سرکلر قرضے کی کم شدہ رقم ظاہر کی جاسکے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، حکومت نے تمام زیر التواء پاور ہولڈنگ کمپنی (پی ایچ ایل) کے قرضے (683 ارب روپے) ادا کرنے اور بجلی پیدا کرنے والوں کو واجب الادا باقی ماندہ سودی واجبات (569 ارب روپے) کی ادائیگی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.252 کھرب روپے قرض لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025