جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کم عمری میں شادی سے متعلق مجوزہ قانون سازی کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کے روز پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی اسلامی شناخت کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا اور مٹایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہم آج بھی غلامی کے دور سے گزر رہے ہیں، ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہے اور جے یو آئی (ف) ایسی کسی قانون سازی کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں چائلڈ میریج ریسٹرینٹ بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا حصہ بنا دیا ہے جس کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی جرم قرار دی گئی ہے۔
یہ بل قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی اور سینیٹ میں شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد صدر نے اس پر دستخط کیے۔
مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمہوریت اپنے وجود کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اب قوانین ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر بنائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا آج پاکستان میں آئین کو روندا جا رہا ہے اور ہم ان حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے خلاف بھرپور تحریک شروع کی جائے گی۔
انہوں نے کم عمری کی شادی سے متعلق مجوزہ قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا اسلام میں شادی کے لیے عمر نہیں، بلکہ سن بلوغت شرط ہے۔ جے یو آئی (ف) اس بل کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس بل کو مسترد کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی قابل قبول نہیں۔ ہمارا مؤقف دوٹوک اور غیر متزلزل ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جے یو آئی (ف) 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں ایک بڑا عوامی اجتماع منعقد کرے گی، جہاں آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا ایک نئے تنازعے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ”لاپرواہی“ نے تصادم کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا بھارت کی جارحیت ایک حقیقی خطرہ ہے، اور پاکستان و افغانستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔