پاکستان نے بھارت میں اسلاموفوبیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں تشویشناک اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان، شفقت علی خان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پاکستان بھارت کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائے، چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقریر، امتیازی سلوک اور ریاستی سازش کے ذریعے نشانہ بنانا بین الاقوامی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔

سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ اس حساس وقت میں مذہبی نفرت کو ہوا دینا سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس سے قبل نئی دہلی کی تنظیم ’ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘ نے رپورٹ دی تھی کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے خلاف 184 سے زائد نفرت پر مبنی جرائم رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے 106 واقعات پہلگام حملے سے جڑے تھے، جن میں کم از کم 316 افراد متاثر ہوئے، جبکہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوئے۔

یہ واقعات نہ صرف بے ترتیب بلکہ منظم انداز میں بھی پیش آئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025