اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم نے جنوبی کوریا کے شہر گومی میں منعقدہ ایشیائی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں نیزہ بازی کے مقابلے میں 86.40 میٹر کی شاندار تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیت لیا ہے۔

بھارت کے سچن یادو نے 85.16 میٹر کی تھرو کے ساتھ چاندی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ جاپان کے یوٹا ساکی یاما نے 83.75 میٹر کی تھرو کرکے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

پاکستان کے محمد یاسر نے 70.53 اور 75.39 میٹر کی تھروز کیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارشد ندیم نے ایک بار پھر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے چیمپئن شپ کے دوران، خصوصاً فائنل میں، شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

![ ۔ ][1]

دریں اثنا وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ارشد ندیم مسلسل قوم کا فخر بنتے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ارشد ندیم کی محنت، لگن اور غیر معمولی کامیابی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

قبل ازیں ایشیائی ایتھلیٹکس فیڈریشن (اے اے ایف) نے ارشد ندیم کو 2024 کا ایشیا کا بہترین ایتھلیٹ قرار دیا ہے۔

یہ اعزاز جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیائی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سالانہ اجلاس کے دوران دیا گیا، جہاں ارشد ندیم کو بین الاقوامی سطح پر خصوصاً پیرس اولمپکس میں ریکارڈ ساز کارکردگی پر سراہا گیا۔

ارشد ندیم کا شاندار ترین لمحہ اُس وقت آیا جب انہوں نے پیرس اولمپکس میں جیولین تھرو کے فائنل راؤنڈ میں 92.97 میٹر کی حیران کن تھرو کی، جو اولمپکس کی تاریخ کی طویل ترین تھرو ثابت ہوئی۔اس تھرو نے نہ صرف انہیں طلائی تمغہ دلایا بلکہ یہ پاکستان کے لیے چالیس برسوں بعد پہلا اولمپک گولڈ میڈل بھی تھا۔[1]: https://x.com/MediaCellPPP/status/1928751376424919482