ڈیجیٹل اصلاحات اور انسدادِ بدعنوانی کے تمام دعووں کے باوجود پاکستان کا فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ (ایف سی اے) نظام بدترین نتائج دے رہا ہے: بیوروکریسی میں اضافہ اور ریونیو میں کمی۔ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان کا یہ منصوبہ صاف شفاف اسسمنٹ اور تیز تر کلیئرنس کا وعدہ لے کر متعارف کروایا گیا تھا، مگر اس کے برعکس، اس نے کسٹمز کے نظام کو مفلوج کر دیا اور قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا۔

ایک داخلی جائزہ رپورٹ جو منظرِ عام پر آچکی ہے ایف سی اے پر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے: ایف سی اے اپنے مقاصد کے حصول میں مکمل ناکام ثابت ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ نظام ناکامی کی ایسی مثال بن چکا ہے جس میں اصلاح کی گنجائش بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

جائزہ کمیٹی کی رپورٹ کسی بھی ایسے ادارے کے لیے باعثِ شرمندگی ہونی چاہیے جو منصوبہ بندی، جانچ یا عمل درآمد کا دعویٰ کرتا ہے۔ اعداد و شمار نہایت تشویشناک ہیں۔ ایف سی اے کے نفاذ کے بعد کارگو کلیئرنس کا وقت کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا ہے — حالانکہ دستاویزی تقاضے کم کیے گئے تھے۔مزید تاخیر، زیادہ الجھن اور ستم ظریفی یہ کہ انسانی مداخلت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اعلیٰ افسران کو بھجوائی گئی فائلوں، لیبارٹری ٹیسٹ کی درخواستوں، اور پرنسپل اپریزرز و اسسٹنٹ کلکٹرز کے سامنے بار بار جانچ پڑتال میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ ایف سی اے نے بیوروکریسی کم کرنے کے بجائے اسے دُگنا کر دیا ہے۔

نااہلی سے بڑھ کر بدترین امر یہ ہے کہ ایف سی اے نظام مطلوبہ محصولات جمع کرنے میں بری طرح ناکام رہا، حالانکہ اس پورے نظام کی بنیاد ہی اس سوچ پر رکھی گئی تھی کہ انسانی صوابدید ختم ہونے سے ملی بھگت کے ذریعے ہونے والی مالی چوری رُک جائے گی۔ مگر ہوا اس کے برعکس — اب کسٹمز اسسمنٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی اضافی آمدن 16 فیصد سے گھٹ کر صرف 13 فیصد رہ گئی ہے۔ بظاہر تین فیصد کی یہ کمی معمولی لگتی ہے، لیکن پاکستان جیسے کمزور مالی حالات میں یہ ایک خطرناک دھچکہ ہے، جس نظام کو مالی رساؤ بند کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اسی نے اسے اور بڑا کردیا۔

تو خرابی کہاں ہوئی؟ تقریباً ہر جگہ — جائزے کے مطابق ایف سی اے کے دو بنیادی ڈیزائن فیصلے ہی اس کی ناکامی کی جڑ ہیں: اوّل، تاجروں کی معلومات اسسمنٹ افسران سے چھپانا، اور دوم خصوصی اسسمنٹ گروپس کو ختم کر دینا۔ حیرت انگیز طور پر یہی دونوں تجربے بیس سال پہلے پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کسٹمز سسٹم پی اے سی سی ایس میں کیے گئے تھے — اور ناکام ہونے پر چھوڑ دیے گئے تھے۔ اس وقت یہ اقدامات جس وجہ سے ناکام ہوئے تھے وہی وجہ آج بھی ان کی ناکامی کا سبب ہے: اسیسرز سے معلومات چھپانے سے ان کی درست جانچ کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف، خصوصی اسیسمنٹ گروپس مہارت، ادارہ جاتی یادداشت اور کارکردگی لاتے ہیں۔ جب آپ انہیں ختم کر دیتے ہیں تو نظام پھر ابتدا پر آجاتا ہے—اور اس بار الجھن میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس نظام کا نفاذ بذات خود ایک اور تباہ کن تجربہ ثابت ہوا ہے۔ کراچی جیسے سب سے مصروف اور پیچیدہ بندرگاہ پر بغیر کسی آزمائشی مرحلے، بغیر تدریجی پائلٹس اور تاثرات کے ایک غیر مربوط نظام کو لاگو کرنا پہلے سے ہی ناکامی کی نوید تھی۔ اہم ڈیٹا بیسز مثلاً آئی آر ایس سے کوئی انضمام نہیں کیا گیا، نہ ہی لاہور یا راولپنڈی جیسے دیگر شہروں میں کوئی مرحلہ وار نفاذ عمل میں آیا۔ اس کے علاوہ، فیس لیس سسٹم کی خامیوں کو پورا کرنے کے لیے بعد از کلیئرنس آڈٹس کا کوئی منصوبہ بھی نہیں بنایا گیا۔

سسٹم کے حامی کہتے ہیں کہ سازش روکنا ضروری تھا، لیکن اگر انسانی مداخلت ختم کرنے کے باوجود آمدنی میں اضافہ نہ ہو تو یا تو سازش کا نقصان ریاست کے لیے معمولی تھا یا نیا نظام اس کو روکنے میں ناکام رہا ہے، ایسی صورت میں ایف سی اے کے بنیادی دعوے بے معنی ہوجاتے ہیں۔ نیت کے پیچھے چھپنا ممکن نہیں جب نتیجہ واضح طور پر نقصان دہ ہو۔

یہ صرف تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی ہے۔ایف بی آر اور کسٹمز نے بغیر مناسب ڈیٹا، تجربے اور انفرااسٹرکچر کے ملک گیر ڈیجیٹل نظام نافذ کیا۔ نتیجہ؟ آمدنی میں کمی، تجارت کی رفتار میں سستی اور عوامی اصلاحات پر مزید عدم اعتماد۔

جائزہ کمیٹی نے نہایت دانشمندی سے ایف سی اے کی توسیع روکنے کا مشورہ دیا ہے، جو محض سفارش نہیں بلکہ ایک ناگزیر حفاظتی اقدام ہے۔ اگر طاقت کے میناروں میں ابھی بھی انصاف پسندی باقی ہے تو اس نظام کو فوری طور پر معطل کر دینا چاہیے۔ اس کے بعد ایک جامع آڈٹ ضروری ہے جو صرف نقائص کی اصلاح تک محدود نہ رہے بلکہ بے چہرہ جائزے کے بنیادی فلسفے کو بھی جڑ سے کھنگالے۔

پاکستان کو بے چہرہ نظام نہیں بلکہ شفاف اور جوابدہ نظام کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم صرف دکھاوے کی ڈیجیٹلائزیشن کو اصلاحات سمجھتے رہیں گے، ایف سی اے جیسے ناکام تجربے بار بار دہراتے رہیں گے اور ہر بار قیمت بھاری چکانی پڑے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025