پاکستانی وفد آئندہ ہفتے تجارت پر مذاکرات کیلئے امریکا آئے گا، ٹرمپ
- پاکستان کو اپنی برآمدات پر امریکہ کی طرف سے ممکنہ طور پر 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان کے نمائندے آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ٹیرف سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بات چیت کریں گے۔
پاکستان کو اپنی برآمدات پر ممکنہ طور پر 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے جو کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس کے باعث لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیرف واشنگٹن کی جانب سے گزشتہ ماہ دنیا بھر کے کئی ممالک پر عائد کیے گئے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت آپس میں جنگ کرتے ہیں تو انہیں ان سے کسی بھی قسم کا تجارتی معاہدہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ دونوں جوہری طاقتیں رواں ماہ چار روزہ جھڑپوں میں لڑاکا طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرچکی ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں کی بدترین لڑائی تھی۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم بھارت کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدے کے حتمی مراحل میں ہی۔
بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے حال ہی میں تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک نے جولائی کے اوائل تک ایک عبوری معاہدے پر دستخط کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
بھارت کو امریکہ برآمد کی جانے والی اشیاء پر 26 فیصد ٹیرف (محصولات) کا سامنا ہے۔
رائٹرز نے گزشتہ ہفتے رپورٹ کیا کہ بھارت امریکہ کی کمپنیوں کو 50 ارب ڈالر سے زائد کے سرکاری معاہدوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا امکان رکھتا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔