وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعہ کو ورلڈ بینک پاکستان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ عالمی بینک کی ٹیم میں سبکدوش ہونے والے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حسائن اور نئی تعینات ہونے والی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آنگابزر شامل تھیں۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے بولورما آنگابزر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کے نئے منصب کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔
انہوں نے ان کی قیادت میں پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان تعاون میں مزید فروغ پانے کی امیدظاہرکی۔
وفاقی وزیر نے سبکدوش ہونے والے کنٹری ڈائریکٹرناجی بن حسائن کی خدمات کو سراہتے ہوئے، حکومت پاکستان کے ساتھ ان کی قیمتی شراکت اور غیر متزلزل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے عالمی بینک اور پاکستان کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے میں ناجی بن حسائن کے کردار کو قابل ستائش قرار دیا اور ان کے آئندہ ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے، معیشت کے کلیدی شعبہ جات میں بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کو پاکستان کے معاشی لائحہ عمل کا ایک کلیدی جزو قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک اہم شعبہ جات میں تبدیلی کے لیے اسٹریٹجک اور مربوط عمل درآمد کے ذریعے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت کنٹری فنانسنگ فریم ورک پر موثر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ عالمی بینک کی معاونت سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے ادارہ جاتی، تکنیکی اور مالی سطح پر عالمی بینک کی مستقل حمایت کو بھی سراہا۔
وزیر خزانہ نے حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزے کی کامیاب تکمیل اورتوسیعی فنڈسہولت پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی قسط کی اجراء کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے آر ایس ایف کے ذریعے اضافی مالی وسائل کی دستیابی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی مالیات کو میرٹ اور معروضی جائزے کی بنیاد پر انجام دیا جانا چاہیے تاکہ سیاسی مصلحتوں سے بالا ہو کر پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
فریقین نے پاکستان کی جامع ترقی کو فروغ دینے کے لیے عالمی بینک اورپاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کوتقویت دینے کے عزم کااعادہ کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025