وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنا چار ملکی دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعے کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشبنے سے وطن واپس پہنچ گئے۔ یہ بات وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی ہے۔

وزیرِ اعظم نے ترکیہ، ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کے دورے کیے جہاں انہوں نے متعلقہ رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اورعلاقائی وعالمی اہمیت کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ بحران کے دوران پاکستان کی حمایت پر دوست ممالک سے اظہار تشکر کیا جبکہ ان کی حمایت کا اعتراف بھی کیا۔

سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ وزیرِ اعظم کے ایران کے دورے میں ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحق دار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ داخلہ محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، اور وزیرِ اعظم کے خاص معاون سید طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

۔

وزیرِ اعظم نے اپنے سفر کا آغاز اتوار کو ترکیہ کے دو روزہ دورے سے کیا جہاں انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ وفد کی سطح پر ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے حالیہ تنازع کے دوران حمایت پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔

پی ٹی وی نیوز نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ ترک وزیر دفاع یشَر گلر، استنبول کے ڈپٹی گورنر ایلکر حکتانکازماز، پاکستان-ترک ثقافتی ایسوسی ایشن کے صدر یوسف جنید، پاکستانی سفیر نعمان اسلم، استنبول کے قونصل جنرل، ترکیہ کی اعلیٰ حکومتی شخصیات، اور ترکی میں تعینات پاکستانی سفارت کار وزیرِ اعظم کو استنبول ہوائی اڈے پر رخصت کرنے کے لیے موجود تھے۔

وزیرِ اعظم پھر پیر کو ایران پہنچے جہاں انہوں نے بھارت کے ساتھ جاری تنازعات، جن میں کشمیر کا مسئلہ اور پانی کی سلامتی شامل ہیں، حل کرنے کے لیے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ سے امن کی خواہش ک ، ہم امن چاہتے ہیں اور ہم خطے میں امن کے لیے میز پر بات چیت کے ذریعے کام کریں گے تاکہ ہمارے زیر التوا مسائل، جن میں کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں اور حتیٰ کہ بھارتی لوک سبھا (پارلیمنٹ) کی 1954 کی قرارداد کے مطابق حل کیے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات مکمل طور پر متفقہ ہے کہ دونوں برادار اور ہمسایہ ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، کاروبار اور زندگی کے ہر شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانا چاہیے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق وزیرِ اعظم نے پیر کو تہران میں ایران کے رہنماِ آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، پاکستان اور بھارت کے حالیہ تنازع اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرنے کے مواقع پر بات چیت ہوئی۔

خامنہ ای سے ان کے دفتر میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ وزیرِ اعظم نے آیت اللہ خامنہ ای کے لیے اپنے ”انتہائی عزت و احترام“ کا اظہار کیا اور انہیں ”مسلم دنیا ک ایک علامتی شخصیت“ قرار دیا۔

اسی دن دوشنبے میں منعقدہ گلیشیئرز کے تحفظ-2025 پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے ریڈ لائن عبور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ لاکھوں زندگیاں تنگ سیاسی فوائد کے لیے یرغمال نہیں بننی چاہئیں۔

اسی دوران وزیر اعظم نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کو بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی آب و ہوا سے متعلق مالیاتی وعدوں کو بلا تاخیر پورے کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا موسمیاتی اعتبار سے مطابقت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کے لیے مناسب فنڈنگ اور مالیاتی خلا کو پر کرنا انتہائی اہم ہے، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور آفات سے نمٹنے کی تیاری و انتظام میں سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔

پوسٹ کے مطابق وزیر اعظم کے دورے کا مقصد ترکیہ کے عوام اور خاص طور پر صدر اردگان کا پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ان کے بھرپور تعاون اور حمایت پر شکریہ ادا کرنا تھا۔