وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کارانداز پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے مشترکہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاشی استحکام حاصل کرلیا گیا ہے۔

تاہم اکتوبر 2024 کے دستاویزات جو جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی پروگرام کی منظوری کے حوالے سے ہیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ استحکام وقتی ہے اور ملک کی معاشی کمزوریاں اب بھی برقرار ہیں، جو مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

آئی ایم ایف کے دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر مسابقتی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات، سبسڈی اور ٹیکس مراعات کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے جس نے ٹیکس کی بنیاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ حفاظتی پالیسیوں خاص طور پر مقامی مارکیٹ میں نئے داخل ہونے والوں کے خلاف اقدامات نے مقابلہ بازی کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں کارکردگی میں کمی اور پیداواریت کم ہو گئی ہے۔

مشکل کاروباری ماحول اور کمزور حکمرانی نے سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں ڈال دی ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاری ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے جو ملکی مسابقت کو مزید متاثر کررہی ہے۔ اقتصادی عدم استحکام وقت کے ساتھ بڑھا ہے اور پاکستان کی معاشی اتار چڑھاؤ کا گہرا تعلق اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں سے ہے۔

معاشی سرگرمی کو بڑھانے کیلئے مالیاتی اور مانیٹری مراعات کے بار بار کیے جانے والے اقدامات پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہوسکے کیونکہ مقامی طلب پاکستان کی قابل برداشت صلاحیت سے تجاوز کرگئی جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی ہوئی،خاص طور پر جب سیاسی ترجیح مستحکم زر مبادلہ کی شرح کو دی گئی۔ ہر آنے والی معاشی کساد بازاری نے پاکستان کی پالیسی سازوں کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت بجٹ میں جرات مندانہ اقدامات متعارف کروانے کی تیاری کررہی ہے جن کا مقصد واضح اور دوررس حکمتِ عملی ہوگی۔ اس نئے رویے کا خیرمقدم کرنا چاہیے کیونکہ سابقہ بجٹوں میں یہ کمی رہی کہ وہ محض آمدنی کے ہدف کو غیر حقیقی حد تک بڑھا کر توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے،جو سال کے آخر تک شاذ و نادر ہی پورا ہوتا تھا، اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی ) میں کٹوتی کی جاتی تھی۔

مزید برآں ملکی و بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھتا جارہا ہے تاکہ نہ صرف بیرونی مالی ضروریات (یعنی غیر ملکی قرضوں کے سود اور اصل رقم کی بروقت ادائیگی) پوری کی جاسکیں بلکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ بجٹ خسارے کے اہداف بھی حاصل کیے جاسکیں، اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ مالی سال میں بجٹ کے تحت منظور شدہ بیرونی قرضہ اب تک حاصل نہیں ہوسکا جس کی ایک وجہ عالمی عوامل ہیں اور دوسری وجہ پاکستان کی بلند خطرے کی درجہ بندی ہے جو معاشی استحکام کے دعوؤں کے باوجود برقرار ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت 19.3 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے جو حکومت کی جرات مندانہ اصلاحات متعارف کروانے کی صلاحیت پر بڑا اثر ڈالے گا۔ جب تک حکومت موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی نہ کرے یا کم از کم انہیں 2024-25 کے برابر برقرار نہ رکھے، تب تک بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا مشکل ہوگا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد محض حساب کتاب درست کرنا نہیں بلکہ بجٹ کو زیادہ حکمت عملی پر مبنی بنانا ہے، یہ نقطہ نظر بھی قابل ستائش ہے تاہم قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں مالیاتی وزارت کے حالیہ بیان نے تشویش پیدا کی ہے،خاص طور پر اس اعتراف پر کہ کچھ کلیدی بجٹ اعدادوشمار جن میں سبسڈی کی تقسیم بھی شامل ہے پر آئی ایم ایف کے ساتھ اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا کوئی مضبوط اثر و رسوخ نہیں کہ وہ سخت ابتدائی شرائط کو نرم کرنے میں رعایت حاصل کر سکے، جب تک کہ وہ فعال طور پر پنشن اصلاحات (ملازمین کی شراکت داری کے آغاز کے ساتھ) نہ کریں اور ٹیکس دہندگان کے خرچ پر تنخواہ حاصل کرنے والے سات فیصد ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی مزاحمت نہ کریں،ایسی پالیسی جو کسی بھی سابقہ انتظامیہ نے نافذ نہیں کی، اور بجٹ دستاویز میں دیے گئے اخراجات اور آمدنی کے ذرائع کی سختی سے پیروی کریں۔

وفاقی وزیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے اور ماضی کی غلطیوں سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا جو معیشت کے اتار چڑھاؤ کا سبب بنتی رہی ہیں۔

ماضی میں شوگر ہائی جیسی پالیسیاں ملک کو بار بار ایک ہی غلطیاں دہرانے پر مجبور کرتی رہیں۔ حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے کو دی جانے والی مراعات اور سبسڈی سے مارکیٹ میں پیسے کی بھرمار ہوگئی جس نے ایسی صنعت کو بڑھاوا دیا جو زیادہ پیداوار کی بجائے زیادہ برآمدات پر انحصار کرتی تھی، اس کی وجہ سے درآمدات بڑھیں اور ادائیگی کے توازن میں مسائل آئے، جس کی وجہ سے ملک کو اپنی معیشت سنبھالنے کیلئے بار بار آئی ایم ایف کے قرضے لینے پڑے۔

ملک کی معیشت کو درپیش چیلنجز بے حد سنگین ہیں اور صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ وزیرِ مالیات مکمل عزم اور تمام متعلقہ فریقین کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنے منصوبے پر قائم رہیں۔ ورنہ ملک مزید گہرے بحران میں پھنس جائے گا اور کامیابی کا امکان اور بھی مشکل ہو جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025