پاکستان میں تیزی سے ابھرنے والے نیو انرجی وہیکل (این ای وی ) کی مارکیٹ میں چینی آٹوموبائل امپورٹر بی وائی ڈی نے حکومت کی 5 سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف مقامی صنعت کاروں کو نقصان پہنچائے گا بلکہ ماحولیات کو بھی شدید متاثر کرے گا اور مہنگے تیل کی درآمد کے لیے غیر ملکی کرنسی کی طلب میں اضافے کا سبب بنے گا۔

کراچی میں حال ہی میں کھولے گئے اپنے ایکسپیرینس سینٹر میں میڈیا بریفنگ کے دوران بی وائی ڈی کے نائب صدر برائے اسٹریٹجی اور سیلز دانش خالق نے کہا کہ پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیاں پاکستان میں اصل قیمت سے 60 فیصد تک کم قیمت پر دستیاب ہوں گی، کیونکہ درآمدی قوانین کے تحت ہر ماہ ان گاڑیوں کی قیمت اصل قیمت سے 1 فیصد کم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مقامی مارکیٹ، جو قیمت کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے، کیلئے سودمند نہیں ہوگا، اس سے نہ صرف پاکستان میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا نیو انرجی وہیکل (این ای وی ) کا شعبہ متاثر ہوگا بلکہ تیل سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں پرانی جاپانی برانڈز کی فروخت بھی گھٹ جائے گی۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت آئندہ بجٹ 2025-26 میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں (سی بی یو) پر ڈیوٹی میں کمی پر غور کررہی ہے، تو یہ رعایت صرف نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) تک محدود ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تیل سے چلنے والی گاڑیوں (آئی سی ای) کو بھی نیو انرجی گاڑیوں کے برابر سہولت دی گئی تو اس سے صارفین کے لیے غلط انتخاب کی صورت پیدا ہو جائے گی۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ آٹو سیکٹر میں ڈیوٹی میں کمی صرف اُن آٹو مینوفیکچررز (او ای ایمز) تک محدود ہونی چاہیے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہوں، یہ پالیسی پاکستان کے صنعتی ترقی کے وژن اور معیشت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پائیداری کے اہداف سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانچ سال تک پرانی پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی رکاوٹ ڈالے گی اور ساتھ ہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

پاکستان اس وقت پہلے سے ہی 3 سال پرانی گاڑیاں درآمد کررہا ہے۔

بی وائی ڈی نے حال ہی میں پاکستان میں دو الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروائیں ہیں۔

دانش خالق کے مطابق، میگا موٹر، جو بی وائی ڈی کا مقامی شراکت دار ہے، سندھ کے شہر گھارو میں ایک نیو انرجی وہیکل کی مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کررہا ہے ،توقع ہے کہ یہ پلانٹ آئندہ سال کام شروع کر دے گا اور اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25,000 گاڑیاں ہونگی۔