پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کے روز بھی خریداری کا رجحان غالب رہا اور کے ایس ای-100 انڈیکس 720 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

مارکیٹ میں تیزی کا عنصر نمایاں طور پر برقرار رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے کے دوران بلند ترین سطح 119,913.88 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

کاروباری دن کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 719.69 پوائنٹس (0.60 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 119,691.09 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار ایف ایف سی، میزان بینک، حبکو، پاک گیس، اینگرو ہولڈنگز اور ایم سی بی نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر 668 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

کے ایس ای-100 انڈیکس نے ماہانہ بنیاد پر 7.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔

ٹاپ لائن کے مطابق یہ اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنی مانیٹری پالیسی اجلاس میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 11 فیصد کر دیا۔ اس فیصلے کی بنیاد مہنگائی کے منظرنامے میں بہتری اور آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ای ایف ایف کے پہلے جائزے کی منظوری کے ساتھ ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی کے تحت 1.4 ارب ڈالر کی نئی سہولت شامل ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج کا اختتام مثبت زون میں ہوا کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی وجوہات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 638.50 پوائنٹس یا 0.54 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 118,971 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی جب کہ امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز میں بھی کمی واقع ہوئی، یہ صورتحال اُس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کاروں نے ایک اپیل کورٹ کے اُس فیصلے پر ردِعمل ظاہر کیا جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا حالانکہ ایک روز قبل مارکیٹس اُس علیحدہ عدالتی فیصلے کے بعد بڑھ گئی تھیں جس میں ان میں سے زیادہ تر ٹیکسز کو روک دیا گیا تھا۔

جاپان کا نکئی انڈیکس جمعہ کو سب سے زیادہ فروخت کے دباؤ کا شکار رہا، حالانکہ جمعرات کو اسی انڈیکس میں سب سے زیادہ خریداری دیکھی گئی تھی۔ یہ اتار چڑھاؤ خاص طور پر اس لیے نمایاں رہا کیونکہ برآمدات پر مبنی اس انڈیکس میں ردوبدل، محفوظ تصور کیے جانے والے جاپانی ین کی طلب میں کمی بیشی کے ساتھ مزید شدت اختیار کرگیا۔

ایشیا کی مارکیٹیں اور امریکی ڈالر خوش آئند اقتصادی اعداد و شمار اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں امید افزا رجحانات کے باعث بڑھ گئے ۔

واشنگٹن کی وفاقی اپیل عدالت نے جمعرات کو ٹرمپ کی لگائی گئی ڈیوٹیاں عارضی طور پر دوبارہ نافذ کردی ہیں تاکہ حکومت کی اپیل پر فیصلہ ہونے تک یہ برقرار رہیں۔

نکی انڈیکس ایشیائی صبح کے وقت 1.7 فیصد گرگیا جس سے وہ تقریباً بدھ کی اختتامی سطح پر واپس آ گیا۔

ین نے جمعرات کو اپنی کم ترین سطح سے تقریباً 2 فیصد بہتری دکھائی اور آخری اطلاعات کے مطابق ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 143.48 پر لین دین ہوا۔

ین کی قدر میں اضافہ بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی آمدن کی مالیت کو کم کردیتا ہے۔

ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.4 فیصد گرگیا جبکہ مین لینڈ چائنا کا بلو چپ انڈیکس میں ابتدائی تجارت میں 0.3 فیصد کمی ہوئی۔

جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.5 فیصد گرگیا۔

ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس، جو جاپان کے علاوہ ہے، 0.4 فیصد کم ہوا۔

دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ قدر میں معمولی اضافہ کرتے ہوئے 0.02 فیصد مضبوط ہوا۔ کاروباری دن کے اختتام پر روپیہ 282.02 کی سطح پر بند ہوا جو ڈالر کے مقابلے میں 5 پیسے کا اضافہ ہے۔

آل شیئر انڈیکس کا حجم 580.32 ملین تک کم ہو گیا جو پچھلے روز 741.65 ملین تھا۔

شیئرز کی کل مالیت 22.74 ارب روپے رہ گئی، جو پچھلے سیشن کے 23.91 ارب روپے سے کم ہے۔

ورلڈ کال ٹیلی کام سب سے زیادہ حجم کا حامل رہا جس کے 79.67 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 47.70 ملین حصص اور سنرجیکو پی کے کے 35.76 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔

جمعہ کو مجموعی طورپر 474 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، ان میں سے 259 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 161 میں کمی اور 54 میں استحکام رہا۔