نیپرا نے کے الیکٹرک کی کارکردگی میں سنگین مسائل پر سخت نوٹس لے لیا، کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کو فوری طور پر شہر کے مکینوں کو قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیپرا کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل افتخار علی خان کی جانب سے کے الیکٹرک کے سی ای او کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کو کراچی کے مختلف علاقوں میں مسلسل اور شدید لوڈشیڈنگ کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پر بجلی کی بندش 12 گھنٹے سے زائد ہو رہی ہے، اور ایک بار کی بندش کا دورانیہ 2.5 سے 3 گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ طویل لوڈشیڈنگ شدید گرمی کی شدت کے دوران شہریوں کی زندگیوں کو مشکل بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بجلی کی بندش نے کراچی کے تجارتی سرگرمیوں اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس سے شہر کی معاشی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
نیپرا نے شکایات اور دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر کے الیکٹرک کی کارکردگی میں متعدد اہم پہلوؤں میں گراوٹ دیکھی ہے، خاص طور پر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن (ٹی اینڈ ڈی) کے نقصانات اور وصولی کے تناسب میں کمی تشویش کا باعث ہے۔ پہلے کے الیکٹرک نے بتایا تھا کہ تقریباً 76 فیصد علاقے لوڈشیڈنگ سے آزاد ہیں، جو اب کم ہو کر صرف 70 فیصد رہ گئے ہیں، جو کئی سرکاری ڈسکوز سے بھی کم ہے۔
کے الیکٹرک کی نجکاری کا بنیادی مقصد کارکردگی میں بہتری اور صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنا تھا، مگر موجودہ کارکردگی کی گراوٹ اس مقصد کے منافی ہے اور کے الیکٹرک کی صلاحیت اور عزم پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
نیپرا نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک نے این ٹی ڈی سی سے سستی بجلی خریدنے پر انحصار بڑھایا ہے، جس سے اس کی فیول لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مگر اس کے باوجود کے الیکٹرک نے صارفین کو بجلی کی مسلسل فراہمی میں کوئی خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا۔ این ٹی ڈی سی کے پاس کے الیکٹرک کو 1600 میگاواٹ بجلی کم نرخوں پر فراہم کرنے کی گنجائش ہے، مگر کے الیکٹرک اس صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر رہا۔
اس کی بجائے، کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جو نہ صرف غیر موثر ہے بلکہ صارفین، معیشت اور پاور سیکٹر کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ کے الیکٹرک کے کچھ جنریشن پلانٹس کو جزوی لوڈ پر چلانے اور اسی دوران لوڈشیڈنگ نافذ کرنے کا عمل فیول کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے، جس سے پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور اضافی چارجز صارفین کو منتقل کیے جاتے ہیں۔
نیپرا نے زور دیا ہے کہ تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیز بشمول کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم کریں اور وصولی کے تناسب کو بہتر بنائیں۔ فیڈر شٹ ڈاؤن کے ذریعے نقصانات کو کنٹرول کرنا یا وصولیاں بڑھانا قانونی اور اخلاقی طور پر قابل قبول نہیں۔
گزشتہ عرصے میں نیپرا نے کے الیکٹرک سمیت کئی ڈسکوز کے خلاف بلا جواز لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جرمانے عائد کیے ہیں، مگر کے الیکٹرک نے اصلاحی اقدامات کرنے کے بجائے ریلیف کی درخواستیں دی ہیں۔
نیپرا نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری اور موثر اقدامات کرے، بشمول لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، نقصانات میں نمایاں کمی اور وصولی کے تناسب میں بہتری۔ چند ماہ سے کے الیکٹرک کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ منفی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے بل کم ہوئے ہیں، اس لیے بجلی چوری اور عدم ادائیگی کا الزام بلا جواز ہے۔
نیپرا توقع کرتا ہے کہ کے الیکٹرک اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے کراچی کے رہائشیوں کو قابل اعتماد بجلی فراہم کرے گا اور قومی پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے کام کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025