پنجاب حکومت کے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے پاکستان انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ (پی ایس سی او) کی فیکٹری کو پراپرٹی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر سیل کر دیا ہے۔ یہ کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج شدہ ایک عوامی لمیٹڈ کمپنی ہے۔

اس پیشرفت کی اطلاع کمپنی نے جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایک نوٹس کے ذریعے دی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ”انتظامیہ متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ یہ معاملہ حل ہو اور فیکٹری آفس تک رسائی بحال کی جا سکے تاکہ انتظامی امور میں خلل سے بچا جا سکے۔“

جنوری 2025 میں پی ای سی او کی جانب سے جاری کردہ رائٹ ایشو کے اعلان کے حوالے سے کمپنی نے مطلع کیا کہ یہ رائٹ ایشو اب تک عملدرآمد کے مرحلے میں نہیں جا سکا، کیونکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے دو مختلف قانونی کارروائیوں کے دوران ہدایات جاری کی گئیں۔

ایس ای سی پی نے پی ای سی او کو رائٹ ایشو پر عملدرآمد سے روک دیا ہے کیونکہ کمپنی کا نام کریڈٹ انفارمیشن بیورو (سی آئی بی) رپورٹ میں ایک واجب الادا واجبات کے حوالے سے درج ہے، جو ریگولیٹری حدود کے تحت آتا ہے۔

پی ای سی او نے مزید کہا کہ وہ متعلقہ فورمز پر یہ مؤقف پیش کر رہی ہے کہ مجوزہ رائٹ ایشو دراصل انہی ریگولیٹری خدشات کو دور کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے، اس لیے ان پابندیوں کا اطلاق اس تناظر میں نہیں ہونا چاہیے۔

پی ای سی او کا قیام ابتدا میں 1950 میں بتالہ انجینئرنگ کمپنی (بی ای سی او) کے نام سے ہوا تھا، جو ہلکی انجینئرنگ مصنوعات تیار کرتی تھی۔

کمپنی نے ماضی میں اعلیٰ معیار کے مشین ٹولز، پمپ، پاور لومز، کنکریٹ مکسرز، کرینیں، پاور پریسز، الیکٹرک موٹرز، سائیکلیں، اسٹیل مصنوعات، بجلی کی ترسیلی ٹاورز، ڈھانچے اور عام فیبری کیشن تیار کیے۔

اس پلانٹ کو ابتدا میں لاہور کے بادامی باغ میں 34 ایکڑ پر قائم کیا گیا، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مصنوعات میں اضافے کے باعث مزید توسیع کے لیے جگہ ناکافی ہوگئی، جس کے بعد 1960 میں لاہور کے کوٹ لکھپت صنعتی زون میں 247 ایکڑ اراضی خریدی گئی تاکہ مستقبل میں فیکٹری کی منتقلی ممکن ہو۔

1972 میں حکومت کی نیشنلائزیشن پالیسی کے تحت کمپنی کو قومی تحویل میں لے لیا گیا اور اس کا نام تبدیل کر کے پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پی ای سی او) رکھ دیا گیا۔