جمعرات کو امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا جب ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے مبینہ ”لیبریشن ڈے“ درآمدی محصولات عائد کرنے سے روک دیا، جس کے بعد ڈالر خاص طور پر یورو، ین اور سوئس فرانک کے مقابلے میں بڑھ گیا۔

مین ہٹن کی بین الاقوامی تجارت کی عدالت نے کہا کہ امریکی آئین کانگریس کو غیر ملکی ممالک کے ساتھ تجارت کو منظم کرنے کا خصوصی اختیار دیتا ہے، جو صدر کے ہنگامی اختیارات سے منسلک نہیں ہو سکتا۔

اس فیصلے کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے اپیل دائر کی۔

اس اقدام نے مارکیٹوں میں خطرہ قبول کرنے کی صورتحال پیدا کی، جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ کے فیوچرز بڑھ گئے اور ڈالر نے عالمی تجارت کے لیے ممکنہ ریلیف کے ردعمل میں تیزی دکھائی۔

امریکی ڈالر ین کے مقابلے میں 0.6 فیصد بڑھ کر 145.72 ہو گیا اور فرانک کے مقابلے میں 0.65 فیصد بڑھ کر 0.8326 ہو گیا۔ یورو 0.5 فیصد گر کر 1.1232 ڈالر پر آگیا۔ اسٹرلنگ 0.2 فیصد گر کر 1.3432 ڈالر پر آ گیا۔

ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، ایک ہفتے میں پہلی بار 100 کی سطح سے اوپر چلا گیا اور آخری بار 100.40 پر تھا۔

نیشنل آسٹریلیا بینک کے ایف ایکس حکمت عملی کے سربراہ رے اٹریل نے کہا کہ ہم بس یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ مارکیٹ فوری ردعمل دے رہی ہے، لہٰذا میرا خیال ہے کہ یہ ان تمام تبدیلیوں کو الٹا کر رہا ہے جو ہم نے لیبریشن ڈے کے بعد دیکھی ہیں۔

ٹرمپ کے محصولات نے امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور کیا اور دنیا کی سب سے بڑی معیشت سے رقم نکلنے کی رفتار تیز کردی تھی۔

اس کا نتیجہ ڈالر کی گراوٹ کی صورت میں نکلا، جو اب تک اس سال تقریباً 8 فیصد کمزور ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، آسٹریلین ڈالر تقریباً مستحکم رہا اور 0.6428 ڈالر پر تھا۔ نیوزی لینڈ ڈالر 0.13 فیصد گر کر 0.59595 ڈالر پر آ گیا۔