پاکستان

عسکری بھائی: وزیراعظم کا پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان سہ فریقی اجلاس سے خطاب

  • ترکیہ اور آذربائیجان پاکستان کے عسکری بھائی ہیں جو پاکستان کے ساتھ ناقابل تسخیر چٹانوں کی طرح کھڑے رہے ہیں، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز کہا کہ ترکی اور آذربائیجان پاکستان کے ”عسکری بھائی“ ہیں جو ملک کے ساتھ ”ناقابل تسخیر چٹانوں“ کی طرح کھڑے رہے اور جن پر ”بغیر کسی شک و شبہ“ اعتماد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستان , ترکیہ اور آذربائیجان سہ فریقی اجلاس میں اپنے خطاب میں کہی، جس میں صدر رجب طیب اردوان اور صدر الہام علیوف بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے آذربائیجان کے صدر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی میزبانی میں ان اور ان کے وفد کا خوب خیال رکھا اور بتایا کہ آج کا اجلاس اصلی دوستوں اور مخلص خیرخواہوں کے دلوں اور روحوں کے میل کا آئینہ دار ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم اب اپنی سہ فریقی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرجوش ہیں، جو ہمارے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی کے لیے حیرت کی بات نہیں کہ پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ صدیوں پر محیط مشترکہ اقدار اور باہمی تعاون کے ذریعے گہرے تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ تاریخی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ قرہ‌باغ ہو، کشمیر ہو یا شمالی ترکیہ کا قبرص۔ ہماری طاقت ہماری یکجہتی اور باہمی احترام میں ہے۔

صدر رجب طیب اردوان کومخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز نے انہیں پی کے کے، کے مسئلے کو نہایت مہارت سے حل کرنے پر مبارکباد پیش کی ، اس بات کا حوالہ دیا کہ کرد باغیوں نے حال ہی میں اپنی تنظیم تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ میرے بھائی! یہ آپ کی سفارتی صلاحیتوں کی بھرپور دلیل ہے کہ آپ نے اس مسئلے کو حل کیا اور اس کے بدلے میں آپ نے نہ صرف خطے بلکہ اس سے آگے بھی ایک بلند مقام اور اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالیہ تصادم کے دوران ہمارے مشترکہ شہریوں کے جذبے اور جوش کی شدت نے ہمیں دنگ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہماری مخلص اور فراخ دلانہ پیشکش کو بھی مسترد کر دیا، جو ایک غیر جانبدار اور شفاف بین الاقوامی تحقیق کا مطالبہ تھی، تاکہ پہلگام واقعے کی حقیقت سامنے آئے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ جس دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، یہ کئی سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مسلح تصادم، موسمیاتی تبدیلی، وبائیں اور معاشی بحران شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تینوں( سربراہان مملکت) آج یہاں جمع ہوئے ہیں، جہاں ہم نے تصادم کو رد کرتے ہوئے ہمدردی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ صبر اور حکمت ہی امن و خوشحالی کی راہ ہموار کریں گے۔