پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ محمود الرحمن لاکھو نے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا 99 فیصد کارگو ہینڈل کرتا ہے جسے سڑکوں سے ریلوے کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر شہر میں بھاری گاڑیوں کے سڑکوں پر چلنے سے سڑکوں کے انفرااسٹرکچر کو مزید نقصان ہوتا رہے گا جو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کراچی کی سڑکوں کا استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے چیمبر میں اُن کے دورے کا مقصد کراچی سے پاکستان کے بڑے صنعتی و تجارتی مراکز تک ریلوے مال بردار کنیکٹیوٹی کو بحال اور مضبوط بنانے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔

ڈی ایس ریلوے نے کہا کہ ریلوے کارگو پر منتقلی نہ صرف اقتصادی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے کیونکہ ریل ٹرانسپورٹ سڑکوں کی نسبت تین گنا زیادہ ایندھن کی بچت کرتی ہے جس سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے، ایندھن کی درآمد پر زرمبادلہ کی بچت ہوتی ہے اور ہائی وے پر بوجھ کم ہوتا ہے۔

اجلاس میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، پاکستان ریلوے کے ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آپریشنل حامد فاروق قریشی، ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ رولنگ اسٹاک محمد فرحان اعوان کے علاوہ پاکستان ریلوے کے دیگر سینئر افسران اور کے سی سی آئی کے منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے پچھلی ایک دہائی میں اپنے کارگو آپریشنز کو جدید بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ 2013 سے 2015 کے درمیان 1400 سے زائد نئے ہوپر ویگن، 2000 سے زیادہ ہائی کیپیسٹی فلیٹ ویگن اور 55 جدید لوکوموٹو فلیٹ شامل کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ہر ویگن کی گنجائش 20 ٹن سے بڑھ کر 60 ٹن ہو گئی ہے جس سے ہر ٹرین 4000 ٹن سے زائد کارگو لے جا سکتی ہے۔

ڈویژنل انجینئر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت مین لائن ون (ایم ایل ون) منصوبے کی تکمیل میں تاخیرپر تشویش کا اظہار کیا جسے ابتدائی طور پر ملک کے ریلوے انفرااسٹرکچر کے لیے گیم چینجر سمجھا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کے بغیر پاکستان ریلوے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے محدود ہے اور کراچی، سکھر، ملتان اور شمالی علاقوں تک طویل دورانیے کی ہائی اسپیڈ کارگو کی خدمات فراہم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ریلوے کراچی کو ماسکو سے ایران، ترکمانستان اور قازقستان کے ذریعے جوڑنے کے لیے بین الاقوامی ریلوے کارگو سروسز بحال کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے جو پاکستانی مصنوعات خصوصاً ٹیکسٹائل اور صنعتی اشیاء کے لیے نئے برآمدی راہیں کھولے گی۔

پاکستان ریلوے جدید لاجسٹکس ماڈلز جیسے ملٹی موڈل کارگو ٹرانسپورٹ، کراچی کے برآمدی شعبوں کے لیے مخصوص کارگو ٹرینز اور رول آن/رول آف (رو رو) ویگنز متعارف کروانے پر غور کر رہا ہے جس میں ٹرکوں کو براہ راست ٹرین کے ذریعے منزل تک پہنچایا جا سکے گا جس سے ہائی ویز پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور ایندھن اور دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ ریلوے کراچی چیمبر اور اس کے اراکین کے ساتھ مل کر کارگو کی ترجیحات کا تعین کرنے اور کراچی کو لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور پشاور سے جوڑنے والے پائلٹ روٹس شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025