نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے مالی سال 24-2023 کے لیے کراچی الیکٹرک (کے-الیکٹرک) کا اوسط بجلی ٹیرف 39.97 روپے فی یونٹ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹیرف ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) فریم ورک کے تحت مالی سال 24-2023 سے 30-2029 تک کے لیے نافذ العمل ہوگا۔

نیپرا کے مطابق اس ٹیرف میں بجلی کی خریداری کی لاگت (ٹرانسمیشن کے بغیر) 31.96 روپے فی یونٹ، ٹرانسمیشن لاگت 2.86 روپے، ڈسٹری بیوشن لاگت 3.31 روپے، سپلائی مارجن 2.28 روپے اور گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹ منفی 0.44 روپے فی یونٹ شامل ہے۔

کے-الیکٹرک کی مجموعی آمدنی کی ضروریات کا تخمینہ 606.920 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں سے سپلائی مارجن 34.681 ارب روپے، آپریشن و مینٹی نینس لاگت 5.91 ارب روپے، ورکنگ کیپیٹل منفی 1.244 ارب، وصولی کا نقصان 36.253 ارب، مجموعی منافع 40.921 ارب، دیگر آمدنی منفی 6.240 ارب اور نیٹ مارجن 34.681 ارب روپے شامل ہیں، جبکہ گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹ منفی 6.690 ارب روپے رہی۔

نیپرا نے تسلیم کیا ہے کہ مالی سال 24-2023 پہلے ہی ختم ہو چکا ہے جبکہ 25-2024 کا بھی بیشتر حصہ گزر چکا ہے، اس لیے ادارے نے اس مدت کے دوران کے-الیکٹرک کی اصل وصولیوں کا ڈیٹا بھی حاصل کیا۔ کمپنی کے مطابق 24-2023 میں وصولی کا تناسب 91.5 فیصد رہا جبکہ 25-2024 کے لیے 90.5 فیصد کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس وصولی میں کمی کا مالی اثر تقریباً 40 ارب روپے (2023-24) اور 57 ارب روپے (25-2024) بنتا ہے۔ نیپرا کے مطابق اگر وصولی کے نقصان کو تسلیم نہ کیا گیا تو ابتدائی دو سالوں میں کے-الیکٹرک کو نقصان ہوگا کیونکہ صرف ڈسٹری بیوشن فنکشن پر دی جانے والی واپسی کی رقم 21.6 ارب روپے ہے، جس سے کمپنی کا مالی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی رجحانات کے مطابق بھی 100 فیصد وصولی کا تقاضا نہیں کیا جاتا بلکہ معقول حد تک نقصان تسلیم کیا جاتا ہے۔ چونکہ کے-الیکٹرک کو وفاقی حکومت سے مالی معاونت حاصل نہیں ہے، اس لیے نیپرا نے کمپنی کی درخواست پر وصولی کے نقصان کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ سات برسوں کے لیے درج ذیل وصولی اہداف مقرر کیے ہیں: 24-2023 میں 93.25 فیصد، 25-2024 میں 93.60 فیصد، 26-2025 میں 94.40 فیصد، 27-2026 میں 95.19 فیصد، 28-2027 میں 95.70 فیصد، 29-2028 میں 90.10 فیصد اور 30-2029 میں 96.50 فیصد۔

نیپرا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیو انرجی پالیسی کی شق 5.3.2 کے تحت ریگولیٹر پر لازم ہے کہ وہ موجودہ مارکیٹ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے خسارے اور وصولیوں کے اہداف کا ازسرنو تعین کرے تاکہ پاور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ریگولیٹری فریم ورک میں سہولت کاری کی دفعات کے ذریعے جائز نقصان کی بر وقت وصولی کی اجازت دی جائے گی۔

کے-الیکٹرک نے وفاقی و سرکاری اداروں سے واجبات کی ادائیگیوں میں تاخیر کا بھی ذکر کیا، تاہم فی الحال ان کے لیے علیحدہ طور پر حکومت سے بات کی جا رہی ہے۔ اگر یہ معاملات حل نہ ہوئے تو کمپنی نیپرا سے مزید معاوضے کی درخواست کر سکتی ہے۔

نیپرا کا یہ فیصلہ کے-الیکٹرک کی مالی بقاء، صارفین کے مفاد اور مجموعی توانائی نظام کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025