کے ایس ای 100 انڈیکس 100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) منگل کو تقریباً ہموار سطح پر بند ہوئی ہے کیوں کہ سرمایہ کار مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے پہلے محتاط نظر آئے تاہم بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 111.78 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 118,332.90 پر بند ہوا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق سرمایہ کاروں کے رویے پر انتظار کرو اور دیکھو کی سوچ غالب رہی کیونکہ مارکیٹ میں تیزی لانے والے عوامل کی غیر موجودگی میں زیادہ تر شرکاء محتاط رہے اور انہوں نے کاروباری سرگرمیوں سے گریز کیا۔
پیر کو کے ایس ای-100 انڈیکس میں تیزی سے کمی آئی تھی کیونکہ سرمایہ کاروں نے بجٹ کے التوا اور آئی ایم ایف کی جانب سے گردشی قرضے کے منصوبے کی منظوری پر غیر یقینی صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا۔ انڈیکس میں 881.55 پوائنٹس یا 0.74 فیصد کی کمی ہوئی اور یہ 118,221 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر، منگل کو ایشیائی حصص میں معمولی کمی آئی، جبکہ امریکی فیوچرز میں اضافہ دیکھنے کو ملا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کی درآمدات پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو مؤخر کر دیا۔ امریکی ڈالر مسلسل پانچویں مہینے گراوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
جاپان میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز میں ابتدائی سیشن کے دوران کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ ہفتے کی شدید فروخت کے بعد اپنی بلند ترین سطحوں سے نیچے آ گئیں۔
امریکہ میں پیر کو تعطیل کی وجہ سے مارکیٹیں بند رہیں، جس کے باعث ٹریڈنگ ہلکی رہی اور سرمایہ کاروں نے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر یو ٹرن سے پیدا ہونے والی امیدوں کو سہارا بنایا۔
ایشیا میں نیسڈک فیوچرز 1.26 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 1.11 فیصد بڑھ گئے، جبکہ ایف ٹی ایس سی فیوچرز میں 0.94 فیصد اضافہ ہوا۔ برطانیہ کی مارکیٹیں بھی پیر کو بند تھیں۔
اینویڈیا کے نتائج بدھ کو متوقع ہیں، جہاں اے آئی سے متعلق کمپنی کی پہلی سہ ماہی آمدن میں 65.9 فیصد اضافے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
دیگر میں، ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک (جاپان کے علاوہ) کا وسیع انڈیکس 0.17 فیصد نیچے رہا، جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.15 فیصد گرا۔ چین کا سی ایس آئی300 بلیو چِپ انڈیکس 0.06 فیصد نیچے گیا جبکہ شنگھائی کمپوزٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.1 فیصد نیچے آیا۔
اس ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کی تقاریر اور جمعے کو جاری ہونے والے کور پی سی ای پرائس انڈیکس پر مرکوز ہے، جو امریکی شرح سود کے مستقبل سے متعلق اشارے فراہم کرے گا۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور روپیہ 11 پیسے کمی کے بعد 282.17 پر بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم بڑھ کر 690.39 ملین شیئرز تک پہنچ گیاجو پچھلے سیشن میں 635.53 ملین تھا۔
شیئرز کی مجموعی مالیت بھی بڑھ کر 23.83 ارب روپے ہو گئی، جو گزشتہ سیشن میں 18.58 ارب روپے تھی۔
کے-الیکٹرک لمیٹڈ 267.62 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی۔ ورلڈ کال ٹیلی کام (31.56 ملین) کے ساتھ دوسرے اور پی ٹی سی ایل (20.01 ملین) شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
منگل کو 459 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 211 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 210 میں کمی، جبکہ 38 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔