فاسٹ کیبلز، جو پاکستان میں برقی کیبلز کا ایک نمایاں صنعت کار ہے، نے اپنی مینوفیکچرنگ سہولت پر اضافی 1.1 میگا واٹ کے سولر پاور سسٹم کی تنصیب کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی سولر پیداوار کی صلاحیت 3 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو دی گئی ایک اطلاع میں کمپنی نے اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ ہم آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوش ہیں کہ فاسٹ کیبلز لمیٹڈ نے اپنی مینوفیکچرنگ سہولت پر اضافی 1.1 میگا واٹ کے سولر پاور سسٹم کی کامیاب تنصیب مکمل کر لی ہے۔ یہ پہلے سے نصب شدہ 1.9 میگا واٹ کی صلاحیت کے علاوہ ہے، جس سے مجموعی سولر پیداواری صلاحیت 3 میگا واٹ ہو گئی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس کے توانائی کے ذرائع میں بہتری لائے گا اور اسے صاف اور قابل تجدید ذرائع سے اپنی توانائی کی بڑی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنائے گا۔
کمپنی نے بیان میں کہا یہ اقدام فاسٹ کیبلز کے ماحولیاتی پائیداری، توانائی کی کارکردگی، آپریشنل بچت اور ذمہ دارانہ کارپوریٹ شہری ہونے کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان میں متبادل توانائی ذرائع کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے، خاص طور پر سولر توانائی، جو رہائشی اور تجارتی دونوں شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے رجحان نے پالیسی سازوں کو قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر اس کے اثرات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ بجلی کا استعمال نسبتاً جمود کا شکار ہے۔
تاہم، اس سستی توانائی کے ذریعے سے فائدہ اٹھانے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (اے اے ٹی ایم)، جو ایک سابقہ ٹیکسٹائل یونٹ سے لاجسٹک سروس فراہم کنندہ میں تبدیل ہو چکی ہے، نے اعلان کیا کہ وہ 1,000 کلو واٹ (1 میگا واٹ) کا سولر پاور منصوبہ تیار کر رہی ہے، جو اب عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اسی دوران، انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ (آئی ایس ایل)، جو انٹرنیشنل انڈسٹریز لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نے بھی اسٹاک مارکیٹ کو بتایا کہ اس نے کراچی میں اپنی فیکٹری میں 6.4 میگا واٹ کا سولر پاور منصوبہ مکمل کر کے فعال کر دیا ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں نصب شدہ سولر صلاحیت 2021 میں 321 میگا واٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4,124 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے۔