باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیراعظم آفس نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں) کی نجکاری یا صوبائی تحویل میں منتقلی کے حوالے سے مشاورتی عمل کو تیز کرے اور پاور سیکٹر ریفارمز پر قائم ٹاسک فورس کے ذریعے مجوزہ سفارشات تیار کرے۔ حتمی سفارشات ڈسکوز کی نجکاری سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کو پیش کی جائیں گی۔
کابینہ نے 13 اگست 2024 کو اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی مکمل نجکاری کی منظوری دی تھی، جو نجکاری کے عمل کا پہلا مرحلہ ہے۔
دوسرے مرحلے میں لاہور (لیسکو)، ملتان (میپکو) اور ہزارہ (ہیزکو) کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو شامل کیا جائے گا۔ حیدرآباد (حیسکو)، سکھر (سیپکو) اور پشاور (پیسکو) کی کمپنیوں کو طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے کنسیشن ماڈل کے تحت دیا جائے گا، جبکہ قبائلی علاقوں کی ٹیسکو اور کوئٹہ کی کیسکو کو سرکاری تحویل میں ہی رکھا جائے گا۔
پاور ڈویژن نے ورلڈ بینک کی نان لینڈنگ ٹیکنیکل اسسٹنس (این ایل ٹی اے) کے تحت ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے جو نجکاری کمیشن کو جمع کرا دی گئی ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور حکومت پاکستان کی مقرر کردہ شرائط کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک کی اضافی شرائط بھی 31 جنوری 2025 تک مکمل کر لی گئی ہیں۔
پہلے مرحلے میں شامل ڈسکوز کے لیے مالیاتی مشیر کا تقرر نجکاری کمیشن نے کیا تھا، اور مشاورتی معاہدہ 11 فروری 2025 کو سائن ہوا۔ نجکاری کا عمل چار مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:
1 . سیکٹر کی سطح پر جائزہ، ابتدائی رپورٹ، عالمی تجربات کا تجزیہ (مکمل ہو چکا)؛2. کمپنی سطح پر قانونی، مالی، تکنیکی، ماحولیاتی اور انسانی وسائل کا جائزہ (رپورٹس 8 مئی 2025 کو جمع ہوئیں، نظرثانی جاری)؛3. ٹرانزیکشن تیاری، مالیاتی ماڈلنگ اور تنظیم نو کے منصوبے (20 جون 2025 تک متوقع)؛4. عمل درآمد، سرمایہ کاروں سے روابط، نیلامی اور فائنل معاہدے (15 جنوری 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف)۔
وزیراعظم نے یکم جنوری 2025 کو ہدایت کی تھی کہ ڈسکوز کی صوبائی تحویل سے متعلق تفصیلی روڈ میپ صوبوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا جائے اور ان کمپنیوں کی نجکاری بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی جائے جنہیں پہلے مرحلے میں نجکاری کے لیے چنا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام پیشگی اقدامات 31 جنوری 2025 تک مکمل کرے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم کی قائم کردہ ٹیرف میں کمی کی کمیٹی، جس کی سربراہی نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار کر رہے ہیں، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پاور ڈویژن کی تیار کردہ تجاویز کا صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد تفصیلی جائزہ لیں اور منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025