بجٹ کو ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، وزیر خزانہ
- وفاقی بجٹ 10 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا جبکہ اقتصادی جائزہ رپورٹ 9 جون 2025 کو جاری ہوگی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں حکومت جرأت مندانہ اور اسٹریٹجک اقدامات متعارف کرانے جا رہی ہے تاکہ معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا جا سکے۔ وہ پیر کے روز کار انداز پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ صرف آمدن و اخراجات کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معیشت کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والی ایک اسٹریٹجک دستاویز ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار محض حساب کتاب کو درست کرنے کے بجائے حکومت بجٹ کو ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔
وفاقی بجٹ 10 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا جبکہ اقتصادی جائزہ رپورٹ 9 جون 2025 کو جاری ہوگی۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ انتہائی نازک لمحات ہیں۔ پوری قوم نے جس انداز میں افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کی بھرپور حمایت کی ہے، وہ قابل تحسین ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ہوئیں، خاص طور پر توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت دوسری قسط اور ریزیلنس اینڈ سسٹین ابلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 1.3 ارب ڈالر کی منظوری کے معاملات کو ایجنڈے سے خارج کرنے کی سازشیں ہوئیں، تاہم یہ تمام رکاوٹیں عبور کر لی گئی ہیں اور پاکستان کا کیس میرٹ پر سنا اور منظور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جس اتحاد کا مظاہرہ قوم نے حالیہ جارحیت کے خلاف کیا، اسی اتحاد کی ضرورت معیشت کے محاذ پر بھی ہے۔
معاشی استحکام پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں بھی ہم نے استحکام حاصل کیا مگر پھر موقع گنوا دیا۔ ہم بار بار کنزیومر ڈرائیوَن گروتھ جیسے ’شوگر رش‘ ماڈلز میں چلے جاتے ہیں، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے مسائل جنم لیتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل سے نکلنے کے لیے اصلاحات کے عمل پر ثابت قدم رہنا ہوگا۔
ٹیکس ریفارمز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس گوشوارے کا عمل آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔ 70 سے 80 فیصد تنخواہ دار طبقے کے پاس نہ تو ایکویٹی ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کی آمدن، تو انہیں 140 سے زائد پوائنٹس کیوں بھرنے پڑیں؟ ہم اسے صرف 9 آئٹمز تک محدود کرنا چاہتے ہیں — پانچ دولت سے متعلق اور چار آمدن سے متعلق۔
انہوں نے کہا کہ اس سادہ نظام کو ستمبر کے آخر تک لاگو کرنے کا ارادہ ہے۔
سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ یہ وہ شعبہ ہے جہاں حکومت گزشتہ سال خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکی، لیکن اس سال اصلاحات کے عمل میں تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور مکمل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔
قرضوں کی ادائیگی پر انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں حکومت کی قرضوں پر لاگت میں 1 کھرب روپے کی کمی آئی ہے، اور آئندہ سال قرضوں کی مینجمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت 400 ارب ڈالر کی سطح عبور کر چکی ہے، لیکن اگر ہم 2047 تک 3 کھرب ڈالر کی معیشت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں آبادی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے دو بنیادی چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے ساتھ طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک میں شامل چھ میں سے چار نکات ان ہی دو چیلنجز سے متعلق ہیں۔
کار انداز کے چیئرمین سید سلیم رضا نے کہا کہ کار انداز پاکستان کے مالیاتی شعبے کو ”پرپز ڈرائیوَن فنانس“ کی طرف منتقلی میں معاونت فراہم کر رہا ہے اور یہ تربیتی ورکشاپ اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کی ڈائریکٹر برائے ترقی جو موئر نے کہا کہ ایک دہائی قبل ہم نے کار انداز کے قیام میں مدد دی تھی، جو آج ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے۔
ورکشاپ کی قیادت عالمی شہرت یافتہ ماہر ایلکس میک گلورے کر رہے ہیں، جو اثراتی سرمایہ کاری کے عملی تجربے کے ساتھ یہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل منیر کمال نے کہا کہ پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کو پائیدار اور اثراتی فنانس میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ شراکت داری حکومت،کار انداز اور پی بی اے کے باہمی عزم کا مظہر ہے۔
یہ تربیت پاکستان کے مالیاتی اداروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور عالمی فنانس کے جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔