پاکستان

سندھ میں موٹرویز کی تعمیر اولین ترجیح ہے، علیم خان

  • کراچی کے مسائل صرف صوبائی نہیں، قومی نوعیت کے ہیں، وفاقی وزیر کا بیان
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے پیر کے روز کہا کہ سندھ میں موٹرویز کی تعمیر حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے اعلان کیا کہ ایم-6 اور ایم-10 موٹرویز کے منصوبے بیک وقت شروع کیے جائیں گے۔ یہ اعلان پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم-6 پاکستان کی لائف لائن ہے، جسے بدقسمتی سے سابقہ حکومتوں نے نظرانداز کیے رکھا۔

وفاقی وزیر نے زور دیا کہ جب تک اس موٹروے کو سی پورٹ سے منسلک نہیں کیا جاتا، اس کی افادیت مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایم-6 اور ایم-10 دونوں کو کراچی پورٹ سے منسلک کیا جائے گا تاکہ ان کی مکمل فعالیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ایم-6 موٹروے منصوبہ تقریباً 400 ارب روپے کی لاگت سے پانچ حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ہر سیکشن لگ بھگ 60 کلومیٹر طویل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے اس سے بہتر موقع کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

وفاقی وزیر کے مطابق منصوبے کے دو سیکشنز کے لیے مالی وسائل پہلے ہی حاصل کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی تین حصوں کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئندہ 15 روز میں منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

علیم خان نے بتایا کہ کراچی تا حیدرآباد اور حیدرآباد تا سکھر موٹرویز کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا جبکہ کراچی تا کوئٹہ (این-25 ہائی وے) پر کام بھی رواں سال کے اختتام تک شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل صرف صوبائی نہیں بلکہ قومی نوعیت کے ہیں اور ہم انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ان کی توجہ الزامات کی سیاست کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ سندھ میں موٹروے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جائے اور اسی طرح کاغان ناران موٹروے کی تکمیل کے لیے بھی ہم پرعزم ہیں۔

عبدالعلیم خان نے دعویٰ کیا کہ موجودہ مالی سال کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 64 ارب روپے سے بڑھ کر 110 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق، یہ اضافی آمدنی نئی موٹرویز کی تعمیر اور سڑکوں کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے پر صرف کی جائے گی۔

روڈ سیفٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ موٹرویز پر خطرناک ڈرائیونگ کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے وضاحت کی ہے کہ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر گاڑی چلانے والے نہ صرف جرمانے کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایم-ٹیگ کا لازمی استعمال طویل قطاروں کو کم کرنے میں مدد دے رہا ہے جبکہ موٹروے پولیس میں عملے کی کمی کو بھی ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے اپنے دورہ کراچی کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کی، جس میں صوبے کو موٹروے اور سڑکوں کی تعمیر میں وزارتِ مواصلات کی مکمل معاونت کا یقین دلایا گیا۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے معروف صنعتکار عارف حبیب کی قیادت میں کاروباری برادری سے بھی ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاروں نے سندھ میں موٹرویز اور شاہراہوں کے نیٹ ورک کی ترقی میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

علیم خان نے یہ بھی بتایا کہ لیاری ایکسپریس وے سے متعلق مزید ترقیاتی منصوبوں کی تلاش اور انٹرچینجز کی بہتری کے لیے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے، جو منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے گی اور ممکنہ متبادل کا جائزہ لے گی۔