بجٹ میں دلیرانہ اقدام کے ذریعے معیشت کی اسٹرٹیجک سمت کا تعین کرینگے، وزیر خزانہ
- پاکستان کے آئی ایم ایف مذاکرات کو ناکام بنانے کے لئے کوششیں کی گئیں، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کے روز کہا کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں دلیرانہ اقدامات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے، جن کا مقصد معیشت کے لیے ایک اسٹریٹجک سمت کا تعین کرنا ہے۔
اسلام آباد میں کار انداز پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں کچھ دلیرانہ اقدامات لے کر آ رہے ہیں۔ بجٹ صرف آمدنی اور اخراجات کا حساب نہیں بلکہ یہ اسٹریٹجک سمت فراہم کرتا ہے کہ معیشت کہاں کھڑی ہے اور کہاں جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف اعداد و شمار کو ترتیب دینے کے بجائے بجٹ کو ایک اسٹریٹجک دستاویز بنانا چاہتی ہے۔
وفاقی بجٹ برائے مالی سال 26-2025، 10 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا جبکہ پاکستان اکنامک سروے 24-2025، 9 جون کو جاری ہوگا۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ انتہائی کشیدہ لمحات ہیں۔ پوری قوم نے بجا طور پر افواجِ پاکستان اور سیاسی قیادت کی طرف سے دشمنی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر فخر محسوس کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت کو سبوتاژ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی کہ یہ ملاقات نہ ہو۔ اگر ہو بھی تو ایجنڈے سے اہم نکات نکال دیے جائیں، جیسے کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت دوسری قسط اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبیلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 1.3 ارب ڈالر۔ لیکن ہم اس مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں اور ہمارا کیس میرٹ پر سنا اور تسلیم کیا گیا۔
معاشی استحکام کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی میکرو اکنامک استحکام حاصل کر چکے ہیں، لیکن ہم نے ان مواقع کو ضائع کر دیا۔ کیونکہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی ڈال کر کھپت پر مبنی ترقی کو ترجیح دینا ایک وقتی ’شوگر رش‘ کی مانند ہوتا ہے، جس سے ادائیگیوں کا توازن اور زرِ مبادلہ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو معاشی اُتار چڑھاؤ سے نکلنے کے لیے اصلاحات کے تسلسل پر قائم رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے عمل کو سادہ بنانے پر بھی کام کر رہی ہے:
وزیر خزانہ کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے 70 سے 80 فیصد افراد کے پاس نہ تو سرمایہ ہوتا ہے نہ آمدنی کی مختلف اقسام، پھر بھی وہ 140 سے 150 خانے کیوں پُر کریں؟ ہم اسے کم کر کے صرف 9 نکات تک لانے کی کوشش کر رہے ہیں — 5 اثاثوں پر اور 4 آمدنی پر۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس سادہ نظام کو ستمبر کے آخر تک نافذ کرنا چاہتی ہے۔
ریاستی اداروں کی اصلاحات (ایس ای او ریفارمز) کے حوالے سے وزیر خزانہ نے اعتراف کیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ شعبہ ہے جہاں ہم گزشتہ سال اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے، لیکن ہم اس میں تیزی سے اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور اسے مکمل کرنے کی امید ہے۔
قرضوں کی ادائیگی پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں حکومتی قرضوں کی ادائیگی پر ایک کھرب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ اگلے سال ہم اپنے ڈیٹ مینجمنٹ آفس کو جدید خطوط پر ازسرنو منظم کرنے جا رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اصلاحات پاکستان کو ”پائیدار ترقی کی راہ“ پر گامزن کریں گی اور انہوں نے معیشت کے طویل مدتی سفر پر خوش اُمیدی کا اظہار کیا
انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت 400 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ لیکن 2047 تک 3 کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے لیے ہمیں دو بڑے چیلنجز — آبادی اور موسمیاتی تبدیلی — سے نمٹنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے ساتھ طے شدہ 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے 6 میں سے 4 نکات انہی دو مسائل — آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی — سے متعلق ہیں۔